تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 226

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۶ سورة البقرة لَّمْ تَجِدُ قَالَ اجْتَهِدُ بِرَأْي فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَقَ رَسُولَهُ بِمَا يَرْضَى بِهِ رَسُولُهُ لَا يُقَالُ إِنَّهُ يُنَاقِضُ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ فَكُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ فَكَيْفَ يُقَالُ فَإِن لَّمْ تَجِدُ فِي كِتَابِ اللهِ لِأَنَّا نَقُولُ إِنَّ عَدُمَ الْوِجْدَانِ لَا يَقْضِ عَدُمَ كَوْنِهِ فِي الْقُرْآنِ وَلِهَذَا قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ لَّمْ تَجِدُ وَلَمْ يَقُلْ فَإِن لَّمْ يَكُنْ فِي الْكِتَابِ ۔ اس عبارت مذکورہ بالا میں اس بات کا اقرار ہے کہ ہر ایک امردین قرآن میں درج ہے کوئی چیز اس سے باہر نہیں اور اگر تفاسیر کے اقوال جو اس بات کے مؤید ہیں بیان کئے جائیں تو اس کے لئے ایک دفتر چاہئے۔ لہذا اصل حق الامر یہی ہے کہ جو چیز قرآن سے باہر یا اس کے مخالف ہے وہ مردود ہے اور احادیث صحیحہ قرآن سے باہر نہیں کیونکہ وحی غیر متلو کی مدد سے وہ تمام مسائل قرآن سے مستخرج اور مستنبط کئے گئے ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ وہ استخراج اور استنباط بجز رسول اللہ یا اسی شخص کے جو ظلی طور پر ان کمالات تک پہنچ گیا ہو ہر یک کا کام نہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جن کو ظلی طور پر عنایات الہیہ نے وہ علم بخشا ہو جو اس کے رسول متبوع کو بخشا تھا وہ حقائق و معارف دقیقہ قرآن کریم پر مطلع کیا جاتا ہے۔ مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۹۲، ۹۳) میر اصد با مرتبہ کا تجربہ ہے کہ خدا ایسا کریم و رحیم ہے کہ جب اپنی مصلحت سے ایک دُعا کو منظور نہیں کرتا تو اس کے عوض میں کوئی اور دُعا منظور کر لیتا ہے جو اُس کے مثل ہوتی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے : مَا نَنْسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۴۰) صبح کو ایک الہام ہوا تھا میرا ارادہ ہوا کہ لکھ لوں پھر حافظہ پر بھروسہ کر کے نہ لکھا۔ آخر وہ ایسا بھولا کہ ہر چند یاد کیا مطلق یاد نہ آیا در اصل یہی بات ہے۔ مَا نَنْسَحُ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا - البدر جلد ۲ نمبر۷ مورخہ ۶ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه (۵۰) ہمارا خدا قادر مطلق خدا ہے جو کامل اختیارات رکھتا ہے یَمْحُوا اللهُ مَا يَشَاءُ ۔ ہمارا ایمان ہے کہ وہ جوشی کی طرح نہیں وہ ایک حکم صبح دیتا اور رات کو اس کے بدلنے کے کامل اختیارات رکھتا ہے مَا نَنْسَخُ مِنْ اية والی آیت اس پر گواہ ہے۔ آخر صدقہ خیرات بھی کوئی چیز ہے۔ تمام انبیاء کرام کا اجماعی مسئلہ ہے کہ صدقہ و استغفار سے رد بلا ہوتا ہے بلا کیا چیز ہے یعنی وہ تکلیف دہ امر جو خدا کے ارادے میں مقدر ہو چکا ہے۔ اب اس بلا بلا کی کی اطلاع جب کوئی نبی دے۔ تو وہ پیشگوئی بن جاتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے وہ