تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 224

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۴ سورة البقرة تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ وَ يَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَ لَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ بعض نابکار قو میں حضرت سلیمان علیہ السلام کو بت پرست کہتی ہیں اللہ تعالیٰ اس آیت میں اُن کی تردید کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف واقعات پر بحث کرتا ہے اور قرآن کل دنیا کی صداقتوں کا مجموعہ ہے اور سب دین کی کتابوں کا فخر ہے جیسے فرمایا ہے فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةُ (البَيِّنَة : ٢) اور صُحُفًا مُطَهَّرَةٌ (البَيِّنَة :) - پس قرآن کریم کے معنی کرتے وقت خارجی قصوں کو نہ لیں بلکہ واقعات کو مد نظر رکھنا چاہئیے ۔۔۔۔۔۔ اس قصہ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی بریت منظور ہے اور ان کو اس ناپاک الزام سے بری کرنا مقصود ہے جو ان پر لگایا جاتا ہے کہ وہ بت پرست تھے خدا نے فرمایا مَا كَفَرَ سُلَيْمن سلیمان نے کفر نہیں کیا۔ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۰ ء صفحه ۴) ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا كَفَرَ سُلَيْن۔ کوئی کہے کہ کیا انبیاء بھی کافر ہوا کرتے ہیں۔ نہیں ایسا نہیں لوگوں نے ان پر اعتراض کیا تھا کہ وہ بت پرست ہو گئے تھے ایک عورت کے لئے ۔ اُس اعتراض کا جواب دیا۔ الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۲) مَا نَنْسَحْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ہیں قرآن حق و باطل میں فرق کرنے کے لئے آیا ہے پھر اگر وہ معیار نہیں تو اور کیا ہے؟ بلاشبہ قرآن کریم تمام صداقتوں پر حاوی ہے اور تمام علوم میں جہاں تک صحت سے ان کو تعلق ہے قرآن کریم میں پائے جاتے لیکن وہ عظمتیں اور وہ کمالات جو قرآن میں ہیں مطہرین پر کھلتے ہیں جن کو وحی الہی سے مشرف کیا جاتا ہے اور ہر ایک شخص تب مومن بنتا ہے کہ جب سچے دل سے اس بات کا اقرار کرے کہ در حقیقت قرآن کریم احادیث کے لئے جو راویوں کے دخل سے جمع کی گئی ہیں معیار ہے۔ گو اس معیار کے تمام استعمال پر عوام کو فہمی قدرت حاصل نہیں صرف اخص لوگوں کو حاصل ہے لیکن قدرت کا حاصل نہ ہونا اور چیز ہے اور ایک چیز کا