تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 216
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۶ سورة البقرة آفتاب کی روشنی اور ظاہری کانوں کے لئے ہوا کا ذریعہ مقرر کیا گیا ہے اور جب باری تعالیٰ کا ارادہ اس طرف متوجہ ہوتا ہے کہ اپنا کلام اپنے کسی ملہم کے دل تک پہنچا وے تو اس کی اس متکلمانہ حرکت سے معاً جبریلی نور میں القا کے لئے ایک روشنی کی موج یا ہوا کی موج یا مہم کی تحریک لسان کے لئے ایک حرارت کی موج پیدا ہو جاتی ہے اور اس تموج یا اس حرارت سے بلا توقف وہ کلام ملہم کی آنکھوں کے سامنے لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے یا کانوں تک اس کی آواز پہنچتی ہے یا زبان پر وہ الہامی الفاظ جاری ہوتے ہیں اور روحانی حواس اور روحانی روشنی جو قبل از الہام ایک قوت کی طرح ملتی ہے۔ یہ دونوں قو تیں اس لئے عطا کی جاتی ہیں کہ تا قبل از نزول الہام، الہام کے قبول کرنے کی استعداد پیدا ہو جائے کیونکہ اگر الہام ایسی حالت میں نازل کیا جاتا کہ ملہم کا دل حواس روحانی سے محروم ہوتا یا روح القدس کی روشنی دل کی آنکھ کو پہنچی نہ ہوتی تو وہ الہام الہی کو کن آنکھوں کی پاک روشنی سے دیکھ سکتا سواسی ضرورت کی وجہ سے یہ دونوں پہلے ہی سے ملہمین کو عطا کی گئیں۔ اور اس تحقیق سے یہ بھی ناظرین سمجھ لیں گے کہ وحی کے متعلق جبریل کے تین کام ہیں۔ اوّل یہ کہ جب رحم میں ایسے شخص کے وجود کے لئے نطفہ پڑتا ہے جس کی فطرت کو اللہ جل شانہ اپنی رحمانیت کے تقاضا سے جس میں انسان کے عمل کو کچھ دخل نہیں ملہما نہ فطرت بنانا چاہتا ہے تو اس پر اسی نطفہ ہونے کی حالت میں جبریلی نور کا سایہ ڈال دیتا ہے تب ایسے شخص کی فطرت منجانب اللہ الہامی خاصیت پیدا کا ۔ کر لیتی ہے اور الہامی حواس اس کو مل جاتے ہیں۔ پھر دوسرا کام جبریل کا یہ ہے کہ جب بندہ کی محبت خدائے تعالیٰ کی محبت کے زیر سایہ آپڑتی ہے تو خدائے تعالیٰ کی مربیا نہ حرکت کی وجہ سے جبریلی نور میں بھی ایک حرکت پیدا ہو کر مُحبّ صادق کے دل پر وہ نور جا پڑتا ہے یعنی اس نور کا عکس محب صادق کے دل پر پڑ کر ایک عکسی تصویر جبریل کی اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔ جو ایک روشنی یا ہوا یا گرمی کا کام دیتی ہے اور بطور ملکہ الہامیہ کے ملہم کے اندر رہتی ہے۔ ایک سرا اس کا جبریل کے نور میں غرق ہوتا ہے اور دوسرا مہم کے دل کے اندر داخل ہو جاتا ہے جس کو دوسرے لفظوں میں روح القدس یا اس کی تصویر کہہ سکتے ہیں ۔ تیسرا کام جبریل کا یہ ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کی طرف سے کسی کلام کا ظہور ہو تو ہوا کی طرح موج میں آکر ا کر اس کلام کو دل کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے یا روشنی کے پیرایہ میں افروختہ ہو کر اس کو نظر کے کے سا۔ سامنے کر دیتا ہے یا حرارت محرکہ کے پیرایہ میں تیزی پیدا کر کے زبان کو الہامی الفاظ کی طرف چلاتا ہے۔ توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۹۱ تا ۹۴)