تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 211

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۱ سورة البقرة پیغمبر آیا تو انکار پر آمادہ ہو گئے۔ ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۶ صفحه ۲۰۱) اہلِ کتاب منتظر تھے کہ پیغمبر کے آنے پر وہ اس کے ساتھ مل کر کفار سے جنگ کریں گے۔ لیکن جب دیکھو یہی علماء کیسے شوق سے چودھویں صدی کے منتظر تھے اور تمام دل بول اٹھے تھے کہ اسی صدی کے سر پر مہدی اور مسیح پیدا ہو گا۔ بہت سے صلحا اور اولیاء کے کشف اس بات پر قطع کر چکے تھے کہ مہدی اور مسیح موعود کا زمانہ چودھویں صدی ہے۔ اب ان کے دلوں کو کیا ہو گیا۔ وَ كَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَّا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَفِرِينَ ۔ (ضمیمہ رسالہ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱ ۱ صفحه ۳۲۲) وَ إِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَكُمُ بِقُوَّةٍ وَ اسْمَعُوا قَالُوا سَمِعْنَا وَ عَصَيْنَا وَ أَشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيْمَانُكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ ۔ أشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ ۔ یعنی انہوں نے گوسالہ سے ایسی محبت کی کہ گویا ان کو گوسالہ شربت کی طرح پلا دیا گیا۔ در حقیقت جو شخص کسی سے کامل محبت کرتا ہے تو گویا اسے پی لیتا ہے یا کھا لیتا ہے اور اس کے اخلاق اور اس کے چال چلن کے ساتھ رنگین ہو جاتا ہے اور جس قدر زیادہ محبت ہوتی ہے اسی قدر انسان بالطبع اپنے محبوب کی صفات کی طرف کھینچا جاتا ہے یہاں تک کہ اسی کا روپ ہو جاتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ یہی بھید ہے کہ جو شخص خدا سے محبت کرتا ہے وہ ظلی طور پر بقدر اپنی استعداد کے اس نور کو حاصل کر لیتا ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات میں ہے۔ اور شیطان سے محبت کرنے والے وہ تاریکی حاصل کر لیتے ہیں جو شیطان میں ہے۔ ( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۳۰) قُلْ إِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِنْدَ اللهِ خَالِصَةً مِّنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوا الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ ۔ اس فرمانے سے مدعا یہ تھا کہ در حقیقت یہودیوں کا یہ بیان کہ ہم نے در حقیقت مسیح کو پھانسی دے در دیا جس سے یہ نتیجہ نکالنا منظور تھا کہ نعوذ باللہ مسیح ملعون ہے اور نبی صادق نہیں ۔ اور ایسا ہی عیسائیوں کا یہ بیان کہ در حقیقت مسیح پھانسی کی موت سے مر گیا جس سے یہ نتیجہ نکالنا منظور تھا کہ مسیح عیسائیوں کے گناہ کے لئے کفارہ -