تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 206
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۶ سورة البقرة روح القدس کی شراکت سے نہیں بلکہ شیطان کی شراکت سے ہے یعنی نا جائز طور پر اس لئے خدا نے اس بہتان کی ذب اور دفع کے لئے اس بات پر زور دیا کہ مسیح کی پیدائش روح القدس کی شراکت سے ہے اور وہ مس شیطان سے پاک ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا لعنتیوں کا کام ہے کہ دوسرے نبی مس شیطان سے پاک نہیں ہیں بلکہ یہ کلام محض یہودیوں کے خیال باطل کے دفع کے لئے ہے کہ مسیح کی ولادت من شیطان سے ہے یعنی حرام کے طور پر ۔ پھر چونکہ یہ بحث مسیح میں شروع ہوئی اس لئے رُوح القدس کی پیدائش میں ضرب المثل مسیح ہو گیا۔ ورنہ اس کو پاک پیدائش میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ذرہ ترجیح نہیں بلکہ دنیا میں معصوم کامل صرف محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوا ہے اور بعض حدیثوں کے یہ الفاظ کہ مس شیطان سے پاک صرف ابن مریم اور اس کی ماں یعنی مریم ہے۔ یہ لفظ بھی یہودیوں کے مقابل پر مسیح کی پاکیزگی ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ گویا یہ فرماتا ہے کہ دنیا میں صرف دو گروہ ہیں ایک وہ جو آسمان پر ابن مریم کہلاتے ہیں اگر مرد ہیں۔ اور مریم کہلاتے ہیں اگر عورت ہیں۔ دوسرے وہ گروہ ہے جو آسمان پر یہود مغضوب علیھم کہلاتے ہیں۔ پہلا گروہ مس شیطان سے پاک ہے اور دوسرا گروہ شیطان کے فرزند ہیں۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۲۴ حاشیه در حاشیه ) جب شیطان کا ظہور ہوا تو اس کا اثر مٹانے کے لئے رُوح القدس کا ظہور ضروری ہوا۔ جس طرح شیطان بدی کا باپ ہے رُوح القدس نیکی کا باپ ہے۔ انسان کی فطرت کو دو مختلف جذبے لگے ہوئے ہیں (۱) ایک جذ بہ بدی کی طرف جس سے انسان کے دل میں بُرے خیالات اور بدکاری اور ظلم کے تصورات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ جذبہ شیطان کی طرف سے ہے اور کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ انسان کی فطرت کے لازم حال یہ جذبہ ہے۔ گو بعض قو میں شیطان کے وجود سے انکار بھی کریں لیکن اس جذبہ کے وجود سے انکار نہیں کر سکتے ۔ (۲) دوسرا جذ بہ نیکی کی طرف ہے جس سے انسان کے دل میں نیک خیالات اور نیکی کرنے کی خواہشیں پیدا ہوتی ہیں اور یہ جذبہ روح القدس کی طرف سے ہے۔ اور اگرچہ قدیم سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے یہ دونوں قسم کے جذبے انسان میں موجود ہیں لیکن آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا کہ پورے زور شور رسے سے یہ دونوں قسم کے جذبے انسان میں ظاہر ہوں ۔ اس لئے اس زمانہ میں بروزی طور پر یہودی بھی پیدا ہوئے اور بروزی طور پر مسیح ابن مریم بھی پیدا ہوا۔ (تحفہ گولر و یه، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۲۵ حاشیه ) روح القدس کے فرزند وہ تمام سعادت مند اور راست باز ہیں جن کی نسبت اِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ