تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 193
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۳ سورة البقرة انسان کی مجون اس کو ملتی ہے اسی بناء پر خدا تعالیٰ نے نافرمان یہودیوں کے قصہ میں فرمایا کہ وہ بندر بن گئے اور سور بن گئے سو یہ بات تو نہیں تھی کہ وہ حقیقت میں تناسخ کے طور پر بندر ہو گئے تھے بلکہ اصل حقیقت یہی تھی کہ بندروں اور سوروں کی طرح نفسانی جذبات ان میں پیدا ہو گئے تھے۔ غرض یہ قسم تناسخ کی اسی دنیا کی زندگی کے غیر منقطع سلسلہ میں شروع ہوتی ہے اور اسی میں ختم ہو جاتی ہے اور اس میں مرنا اور جینا اور آنا اور جانا ایک حکمی امر ہوا کرتا ہے نہ واقعی اور حقیقی ۔ اور دوسری قسم تناسخ کی وہ ہے جو قیامت کے دن دوزخیوں کو پیش آئے گی اور وہ یہ ہے کہ ہر ایک دوزخی جس گندے جذبہ میں گرفتار ہوگا اسی کے مناسب حال کسی حیوان کی صورت بنا کر اس کو دوزخ میں ڈالا جائے گا مثلاً جو لوگ شکم پرستی کی وجہ سے خدا سے دور پڑ گئے وہ کتوں کی شکل میں کر کے دوزخ میں گرائے جائیں گے اور جو لوگ شہوت کے جماع کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے حکم سے روگردان ہو گئے وہ سوروں کی شکل میں دوزخ میں گرائے جائیں گے۔ اور جن لوگوں نے نافرمانی کر کے بہت سے حیوانوں کے ساتھ مشابہت پیدا کر لی تھی وہ بہت سی مجونوں میں پڑیں گے اس طرح پر کہ ایک بجون کو ایسی حالت میں ختم کر کے جو موت سے مشابہ ہے دوسری مجون کا چولہ پہن لیں گے۔ اسی طرح ایک مجون کے بعد دوسری جون میں آئیں گے اور نہ ایک موت بلکہ ہزاروں موتیں ان پر آئیں گی ۔ اور وہ موتیں وہی ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ثبور کثیر کے لفظ سے قرآن شریف میں بیان کیا ہے۔ مگر مومنوں پر بجز ایک موت کے جو موتة اولی ہے اور کوئی موت نہیں آئے گی ۔ تیسری قسم تناسخ کی جو قرآن میں بیان ہے یہ ہے جو انسانی نطفہ ہزا رہا تغیرات کے بعد پھر نطفہ کی شکل بنتا ہے مثلاً اول گندم کا دانہ ہوتا ہے اور ہزاروں برس اس کی یہ صورت ہوتی ہے کہ زمیندار اس کو زمین میں ہوتا ہے اور وہ سبزہ کی شکل پر ہو کر زمین سے نکلتا ہے آخردانہ بن جاتا ہے پھر کسی وقت زمیندار اس کو بوتا ہے اور پھر سبزہ بنتا ہے اسی طرح صد ہا سال ایسا ہی ہوتا رہتا ہے اور ہزارہا قالب میں وہ دانہ آتا ہے یہاں تک کہ اس کے انسان بننے کا وقت آ جاتا ہے تب اس دانہ کو کوئی انسان کھا لیتا ہے اور اس سے انسانی نطفہ بن جاتا ہے۔ (ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۰۶ تا ۲۰۸) کتے سے مراد ایک طماع آدمی جو کہ تھوڑی سی بات پر راضی اور تھوڑی سی بات پر ناراض ہو جاتے ہیں اور بندر سے مراد ایک مسخ شدہ آدمی ہے۔ مفسرین سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ مسخ شدہ یہود پر یشم بھی پیدا ہوگئی تھی اور ان کی دم بھی نکل آئی تھی بلکہ ان کے عادات مثل بندروں کے ہو گئے تھے۔ اس وقت بھی اُمت مثل یہود کے ہو گئی ہے اس سے مراد