تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 180
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نا کام مقتل ہو جانا انبیاء کی علامات میں سے نہیں۔ ۱۸۰ سورة البقرة یہ مصالح پر موقوف ہے کہ ایک شخص کے قتل سے فتنہ برپا ہوتا ہے تو مصلحتِ الہی نہیں چاہتی کہ اس کو قتل کرا کر فتنہ برپا کیا جاوے۔جس کے قتل سے ایسا اندیشہ نہ ہو اس میں ہرج نہیں ۔ - الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۲) إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصْرَى وَالصَّبِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ رور دور يحزنون ۔ یعنی جو لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں اور جو لوگ یہود و نصاری اور ستارہ پرست ہیں جو شخص اُن میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے گا اور اعمال صالحہ بجالائے گا خدا اُس کو ضائع نہیں کرے گا اور ایسے لوگوں کا اجر اُن کے ربّ کے پاس ہے اور ان کو کچھ خوف نہیں ہوگا اور نہ غم ۔ یہ آیت ہے جس سے باعث نادانی اور کج فہمی یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی کچھ ضرورت نہیں۔ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ یہ لوگ اپنے نفس امارہ کے پیرو ہو کر محکمات اور بیناتِ قرآنی کی مخالفت کرتے ہیں اور اسلام سے خارج ہونے کے لئے متشابہات کی پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ اُن کو یادر ہے کہ اس آیت سے وہ کچھ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور آخرت پر ایمان لانا اس بات کو مستلزم پڑا ہوا ہے کہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا جائے ۔ وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اللہ کے نام کی قرآن شریف میں یہ تعریف کی ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو رب العالمین اور رحمن اور رحیم ہے جس نے زمین اور آسمان کو چھ دن میں بنایا اور آدم کو پیدا کیا اور رسول بھیجے اور کتابیں بھیجیں اور سب کے آخر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا جو خاتم الانبیاء اور خیر الرسل ہے اور یوم آخر قرآن شریف کی رُو سے یہ ہے جس میں مردے جی اُٹھیں گے اور پھر ایک فریق بہشت میں داخل کیا جائے گا جو جسمانی اور روحانی نعمت کی جگہ ہے اور ایک فریق دوزخ میں داخل کیا جاوے گا جو روحانی اور جسمانی عذاب کی جگہ ہے اور خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اس یوم آخر پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جو اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں ۔