تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 177

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۷ سورة البقرة اُمت کے علماء نے اس زمانہ کے یہودیوں کے قدموں پر قدم مارا ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں موجود تھے اور نہ صرف اسی بات میں وہ اس وقت کے یہودیوں کے مشابہ ہو گئے ہیں کہ دیانت اور تقویٰ اور روحانیت اور حقیقت شناسی اُن میں باقی نہیں رہی بلکہ دنیوی ادبار بھی ویسا ہی شامل حال ہو گیا ہے کہ جیسا اس زمانہ میں تھا اور جیسا کہ اس وقت یہود یہ ریاستوں کو رومی ملوک نے تباہ کر دیا تھا اور ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ کا مصداق ہو گئے تھے اور یہودی اپنے تئیں ضعیف اور بے کس دیکھ کر ایک ایسے مسیح کے منتظر تھے جو بادشاہ ہو کر آوے اور رومیوں پر تلوار چلاوے کیونکہ توریت کے آخر میں یہی وعدہ دیا گیا تھا ویسا ہی یہ قوم م مسلمان بھی اکثر اور اغلب طور پر ادبار کی حالت میں گری ہوئی نظر آتی ہے اگر کوئی ریاست ہے تو اس کو اندرونی نفاقوں اور وزراء اور عملہ کی خیانتوں اور بادشاہوں کے کسل اور سستیوں اور جہالتوں اور بے خبریوں اور عیش پسندیوں اور آرام طلبیوں نے ایسا کمزور کر دیا ہے کہ اب ان کا کوئی آخری دم ہی نظر آتا ہے اور یہ لوگ بھی یہودیوں کی طرح منتظر تھے کہ مسیح موعود بادشاہوں کی طرح بڑے جلال کے ساتھ ان کی حمایت کے لئے نازل ہوگا۔ ( شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۸،۳۵۷) یہودی بھی تو پیغمبر زادے ہیں۔ کیا صدہا پیغمبر اُن میں نہیں آئے تھے مگر اس پیغمبر زادگی نے ان کو کیا فائدہ پہنچایا۔ اگر ان کے اعمال اچھے ہوتے تو وہ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ کے مصداق کیوں ہوتے۔ خدا تعالیٰ تو ایک پاک تبدیلی کو چاہتا ہے بعض اوقات انسان کو تکبر نسب بھی نیکیوں سے محروم کر دیتا ہے اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں اسی سے نجات پالوں گا جو بالکل خیال خام ہے۔ کبیر کہتا ہے کہ اچھا ہوا ہم نے چماروں کے گھر جنم لیا۔ کبیر اچھا ہوا ہم سچ بھلے سب کو کریں سلام خدا تعالیٰ وفاداری اور صدق کو پیار کرتا ہے اور اعمال صالحہ کو چاہتا ہے لاف و گزاف اسے راضی نہیں کر سکتے ۔ (الحکم جلد ۸ نمبر ۲۵، ۲۶ مورخہ ۳۱ جولائی و ۱۰ راگست ۱۹۰۴ ء صفحه (۱۳) یہودی بیچارے خود ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ کے مصداق اُن کی وہ حالت تھی کہ صورت ہیں حالش مپرس دنیا پرستی کے سوا کچھ جانتے ہی نہیں ۔۔۔۔ یہودیوں نے کھانے پینے کے سوا اور کوئی مقصود ہی نہیں رکھا۔ خدا کی قدرت ہے جب ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ کی حالت آئی تو وہ افعال بھی آگئے جو ذلت کے جالب اور ذلت کے نتائج تھے اگر وہ تائب ہو جاتے تو پھر ضُربت کیونکر صادق آتا ۔۔۔۔۔۔۔ یہودیوں کی زندگی اگر ناپاکیوں کا مجموعہ نہ تھی تو پھر ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ کی ماران پر کیوں کر پڑتی ۔ اس پر خوب غور کرو اس کے