تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 175

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۵ سورة البقرة آسمانی نہ رہے۔ طاعون جو اس کا نام رکھا ہے یہ مبالغہ کا صیغہ ہے جیسے فاروق ، جب طعن اور تکذیب حد سے گزر جاتی ہیں تو پھر اس کی پاداش میں طاعون آتی ہے اور پھر صفائی کر کے ہی قہر الہی بس کرتا ہے۔ عرض کیا گیا کہ دَابَّةُ الْأَرْضِ اور رِجْرٌ مِّنَ السَّمَاءِ میں کیا تعلق ہے؟ فرمایا: امر تو آسمانی ہی ہوتے ہیں یعنی اس طاعون کا امر آسمان سے آتا ہے اور وہ انسانی ہاتھوں سے بالاتر امر ہوتا ہے اور اس کا معالجہ بھی آسمان ہی سے آتا ہے ۔ دَابَّةُ الْأَرْضِ طاعون کو کہتے ہیں اس لئے کہ اس کے کیڑے تو زمینی ہی ہوتے ہیں ۔ عرض کیا گیا کہ طاعون سے مرنا شہادت بتاتے ہیں تو پھر عذاب کیوں کر ہوا ؟ (فرمایا ) جو لوگ طاعون سے مرنا شہادت بتاتے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ طاعونی موت تو عذاب الہی ہی ہے لیکن یہ جو کسی حدیث میں آیا ہے کہ اگر مومن ہو کر طاعون سے مر جاوے تو شہادت ہے تو یہ اللہ تعالیٰ نے گویا مومن کی پردہ پوشی کی ہے۔ کثرت سے اگر مرنے لگیں تو شہادت نہ رہے گی پھر عذاب ہو جائے گا۔ شہادت کا حکم شاذ کے اندر ہے۔ کثرت ہمیشہ کافروں پر ہوتی ہے۔ اگر یہ ایسی ہی شہادت اور برکت والی چیز تھی تو اس کا نام رجز مِنَ السَّمَاءِ نہ رکھا جاتا اور پھر کثرت سے مومن مرتے اور انبیاء مبتلا ہوتے مگر کیا کوئی کسی نبی کا نام لے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں پس یا د رکھو کہ اگر کوئی شاذ مومن اس سے مر جاوے تو اللہ تعالیٰ اپنی ستاری سے اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے اور اس کے لئے کہا گیا کہ وہ شہادت کی موت مرتا ہے۔ ماسوا اس کے میں نے بارہا کہا ہے کہ اگر کوئی حدیث قرآن شریف کے متعارض ہو۔ اور اُس کی تاویل قرآن کے موافق نہ ہو تو اُسے چھوڑ دینا چاہئے حکم ہمیشہ کثرت پر ہوتا ہے شاذ تو معدوم کا حکم رکھتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ رنومبر ۱۹۰۲ صفحه ۸) یہ (طاعون ) زمینی چیز نہیں ہے کہ زمین اس کا علاج کرے یہ آسمان سے آتی ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکتا یہ رِجْرٌ مِّنَ السَّمَاءِ ہے۔ سابقہ انبیاء کے وقت بھی یہ بطور عذاب کے ایک نشان ہوتا رہا ہے بس اس کا علاج یہی ہے کہ اپنے ایمان کو اس کی انتہائی غایت تک پہنچا دو اس کے آنے سے پیشتر اس خدا سے صلح کرو، استغفار کرو، تو بہ کرو۔ دعاؤں میں لگو ۔ اس ( طاعون ) کی کوئی دوائی نہیں ہے، مرض ہو تو دوا ہو، یہ تو ایک عذاب الہی اور قہر ایز دی ہے بجز تقویٰ کے اس کا کیا علاج ہے یا د رکھو کہ اگر گھر بھر میں ایک بھی متقی ہو گا تو خدا اس کے سارے گھر کو بچاوے گا بلکہ اگر اس کا تقویٰ کامل ہے تو وہ اپنے محلے کا بھی شفیع ہو سکتا ہے اگر چہ متقی مربھی جاوے تو وہ سیدھا جنت میں جاتا ہے مگر ایسے وقت میں جبکہ یہ موت ایک قہر الہی کا نمونہ ہے اور بطور نشان کے دنیا پر آتی ہے میرا دل ہرگز شہادت نہیں دیتا کہ کوئی متقی اس ذلت کی موت سے مرے مشتقی ضرور