تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 168
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۸ سورة البقرة وَإِذْ قُلْتُمْ يَمُوسَى لَنْ تُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصُّعِقَةُ وَ انْتُمْ تَنْظُرُونَ ۔ اور وہ زمانہ یاد کرو جب تم نے موسیٰ کو کہا تھا کہ ہم بغیر دیکھے خدا پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۴۶) وہ وقت یاد کرو جب تم نے موسیٰ کو کہا کہ ہم تیرے کہے پر تو ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کو بچشم خود شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۷) نہ دیکھ لیں تب تم پر صاعقہ پڑی۔ تم وہ وقت یاد کرو جبکہ تم نے ، نہ کسی اور نے یہ کہا کہ ہم تیرے کہنے پر تو ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم آپ ظاہر ظاہر خدا کو نہ دیکھ لیں اور پھر تم کو بجلی نے پکڑا اور تم دیکھتے تھے۔ اور اس آیت میں ایک اور لطیفہ یہ ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے اس آیت کے مضمون میں موجودہ یہودیوں کو گذشتہ لوگوں کے قائم مقام نہیں ٹھہرایا بلکہ ان کو فی الحقیقت گذشتہ لوگ ہی ٹھہرا دیا تو اس صورت میں قرآن کریم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کے یہودیوں کے وہی نام رکھ دیئے جو اُن گذشتہ بنی اسرائیل کے نام تھے کیونکہ جبکہ یہ لوگ حقیقتاً وہی لوگ قرار دیئے گئے تو یہ لازمی ہوا کہ نام بھی وہی ہوں وجہ یہ کہ نام حقائق کے لئے مثل عوارض غیر منفک کے ہیں اور عوارض لازمیہ اپنے حقائق سے الگ نہیں ہو سکتے ۔ اب خوب متوجہ ہو کر سوچو کہ جبکہ خدا تعالیٰ نے صریح اور صاف لفظوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے یہودیوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم نے ہی ایسے ایسے بڑے کام حضرت موسیٰ کے عہد میں کیسے تھے تو پھر ایسی صریح اور کھلی کھلی نص کی تاویل کرنا اور احادیث کی بنیاد پر حضرت عیسی علیہ السلام کو جو قرآن کریم کی رو سے وفات یافتہ ہے پھر زمین پر اُتارنا کیسی بے اعتدالی اور نا انصافی ہے۔ عزیز و! اگر خدا تعالیٰ کی یہی عادت اور سنت ہے کہ گزشتہ لوگوں کو پھر دُنیا میں لے آتا ہے تو نص قرآنی جو بہ تکرار در تکرار گزشتہ لوگوں کو مخاطب کر کے اُن کے زندہ ہونے کی شہادت دے رہی ہے اس سے درگزر کرنا ہرگز جائز نہیں اور اگر وہاں یہ دھڑ کہ دل کو پکڑتا ہے کہ ایسے معنے گو خدا تعالیٰ کی قدرت سے تو بعید نہیں لیکن معقول کے برخلاف ہیں۔ اس لئے تاویل کی طرف رخ کیا جاتا ہے اور وہ معنے کئے جاتے ہیں جو عند العقل کچھ بعید نہیں ہیں تو پھر ایسا ہی حضرت عیسیٰ کے آنے کی پیشگوئی کے معنے کرنے چاہئیں کیونکہ اگر گذشتہ یہودیوں کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں زندہ ہو جانا یا اگر بطریق تناسخ کے اُن کی روحیں پھر آ جانا طریق معقول کے برخلاف ہے تو حضرت مسیح کی نسبت کیوں کر دوبارہ دنیا میں آنا تجویز کیا جاتا ہے جن کی وفات پر آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ (المائدة : ١١٨)