تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 154
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اولد سورة البقرة خَلَقَ آدَمَ فَأَكْرَمَهُ یعنی خدا نے آخری آدم کو پیدا کر کے پہلے آدموں پر ایک وجہ کی اس کو فضیلت بخشی۔ اس الہام اور کلام الہی کے یہی معنے ہیں کہ گو آدم صفی اللہ کے لئے کئی بروزات تھے جن میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی تھے لیکن یہ آخری بروز اکمل اور اتم ہے۔ ( تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۷۵ تا ۴۸۱) إِنَّ اللهَ وَتُرْ تُحِبُّ الْوِتْرَ، فَاقْتَضَتْ | خدا اکیلا ہے اور ایک ہونے کو دوست رکھتا ہے۔ وَحْدَتُهُ أَنْ يَكُونَ الْإِنْسَانُ الَّذِي هُوَ اس لئے اُس کی یکتائی نے چاہا کہ وہ انسان جو خلیفوں کا خَاتَمُ الْخُلَفَاءِ مُشَابِهَا بِادَمَ الَّذِي هُوَ أَوَّلُ خاتم ہو اُس آدم سے مشابہ ہو جو سب خلیفوں کا پہلا تھا مَنْ أُعْطِيَ خِلَافَةً عُظمی وَ أَوَّلُ مَنْ نُفِخَ اور مخلوقات میں اول شخص تھا جس میں خدا کی روح پھونکی فِيهِ الرُّوحُ مِنْ رَّبِّ الْوَرَى لِيَكُونَ زَمَانٌ گئی تھی اور یہ اس لئے کیا تا کہ نوع بشر کا زمانہ اس دائرہ نَوْعِ الْبَشَرِ كَدَائِرَةِ يَتَّصِلُ نُقْطَةُ الْآخِرَةِ کی طرح ہو جائے جس کا آخری نقطہ اُس کے پہلے نقطہ بِنُقْطَتِهَا الْأُولَى وَلِيَدُلُّ عَلَى التَّوْحِيدِ سے مل جاتا ہے اور نیز اس لئے کہ اس توحید پر دلالت الَّذِي دُعِيَ إِلَيْهِ الْإِنْسَانُ وَ التَّوْحِيدُ کرے کہ جس کی طرف انسان کو بلایا گیا ہے۔ اور توحید أَحَبُّ الْأَشْيَاءِ إِلَى رَبَّنَا الْأَعْلَى فَاخْتَارَ ہمارے پروردگار کو سب چیزوں سے زیادہ پیاری ہے۔ وَضْعًا دَوْرِيًّا فِي خَلْقِ الْإِنْسَانِ فَلِذَالِكَ اس لئے انسان کی پیدائش میں وضع دوری کو اختیار خَتَمَ عَلَى آدَمَ كَمَا كَانَ بَدَأَ مِنْ آدَمَ في فرمایا ۔ اور اسی سبب سے آدم پرختم کیا جیسا کہ شروع أَوَّلَ الْأَوَانِ وَ إِنَّ فِي ذَالِكَ لَآيَةً میں آدم سے ابتدا کیا اور فکر کرنے والوں کے لئے اس لِلْمُتَفَكِّرِينَ، وَإِنَّ أَدَمَ اخَرَ الزَّمَانِ میں بڑا بھاری نشان ہے اور آخر زمانہ کا آدم در حقیقت حَقِيقَةً هُوَ نَبِيُّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہمارے نبی کریم ہیں صلی اللہ علیہ وسلم اور میری نسبت وَالنِّسْبَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ كَنِسْبَةِ مَنْ عَلَّمَ اُس کی جناب کے ساتھ اُستاد اور شاگرد کی نسبت ہے۔ وَتَعَلَّمَ (خطبہ الہامیه، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۲۵۶ تا ۲۵۸) ( ترجمہ اصل کتاب سے ) قَالُوا سُبُحْنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۔ تو پاک ہے ہمیں کوئی علم نہیں۔ سوا اس کے جو تو نے ہم کو سکھا یا۔ تحقیق تو علم اور حکمت والا ہے۔ ( بدر جلد نمبرے مورخہ ۱۸ رمئی ۱۹۰۵ ء صفحہ ۷ ) کیا عمدہ اور صاف اور پاک اور خدائے تعالیٰ کی عظمت اور بزرگی کے موافق یہ عقیدہ ہے کہ جو کچھ اس