تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 111

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 111 سورة البقرة اشجار کی آبپاشی کرتے ہیں۔غرض اس معاملہ میں جتنا جتنا تدبر کیا جاوے اسی قدر معارف سمجھ میں آویں گے جس طرح سے ایک کسان کاشت کار کے واسطے ضروری ہے کہ وہ تخمریزی کرے اسی طرح روحانی منازل کے کاشتکار کے واسطے ایمان <mark>جو</mark> کہ روحانیات کی تخمریزی ہے ضروری اور لازمی ہے اور پھر جس طرح کاشت کار کھیت یا باغ وغیرہ کی آبپاشی کرتا ہے اُسی طرح سے روحانی باغ ایمان کی آبپاشی کے واسطے اعمالِ <mark>صالح</mark>ات کی ضرورت ہے یا درکھو کہ ایمان بغیر اعمال <mark>صالح</mark> کے ایسا ہی بے کار ہے جیسا کہ ایک عمدہ باغ بغیر نہر یا کسی دوسرے ذریعہ آبپاشی کے نکتا ہے۔درخت خواہ کیسے ہی عمدہ قسم کے ہوں اور اعلیٰ قسم کے پھل لانے والے ہوں مگر جب مالک آبپاشی کی طرف سے لا پرواہی کرے <mark>گا</mark> تو اس کا <mark>جو</mark> نتیجہ ہو <mark>گا</mark> وہ سب جانتے ہیں۔یہی حال روحانی زندگی میں شجر ایمان کا ہے۔ایمان ایک درخت ہے جس کے واسطے انسان کے اعمالِ <mark>صالح</mark> روحانی رنگ میں اس کی آبپاشی کے واسطے نہریں بن کر آبپاشی کا کام کرتے ہیں۔پھر جس طرح ہر ایک کاشتکار کو تخم ریزی اور آبپاشی کے علاوہ بھی محنت اور کوشش کرنی پڑتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے روحانی فیوض برکات کے ثمرات حسنہ کے حصول کے واسطے بھی مجاہدات لازمی اور ضروری رکھے ہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخه ۱۴؍ <mark>جو</mark>لائی ۱۹۰۸ صفحه ۵) <mark>قرآن</mark> <mark>شریف</mark> میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ عمل <mark>صالح</mark>ہ بھی رکھا ہے۔عمل <mark>صالح</mark>ہ اسے کہتے ہیں جس میں ایک ذرہ بھر فسادنہ ہو۔یا درکھو کہ انسان کے عمل پر ہمیشہ چور پڑا کرتے ہیں وہ کیا ہیں؟ ریا کاری ( کہ جب انسان دکھاوے کے لئے ایک عمل کرتا ہے ) تعجب ( کہ وہ عمل کر کے اپنے نفس میں خوش ہوتا ہے ) اور قسم قسم کی بدکاریاں اور گناہ <mark>جو</mark> اُس سے صادر ہوتے ہیں اُن سے اعمال باطل ہو جاتے ہیں۔عملِ <mark>صالح</mark>ہ وہ ہے جس میں ظلم ، عجب ، دریا، تکبر، حقوق انسان کے تلف کرنے کا خیال تک نہ ہو۔جیسے آخرت میں عملِ <mark>صالح</mark>ہ سے بچتا ہے ویسے ہی دنیا میں بھی بچتا ہے۔اگر ایک آدمی بھی گھر بھر میں عملِ <mark>صالح</mark>ہ والا ہو تو سب گھر بچارہتا ہے۔سمجھ لو کہ جب تک کہ تم میں عملِ <mark>صالح</mark>ہ نہ ہو صرف اتنا فائدہ نہیں کرتا۔(البدر جلد نمبر ۹ مورخه ۲۶ ؍ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۶۶) خوب یا درکھو کہ جب تک سچے دل سے اور روحانیت کے ساتھ یہ اعمال نہ ہوں کچھ فائدہ نہ <mark>ہو<mark>گا</mark></mark> اور یہ اعمال کام نہ آئیں گے۔اعمال <mark>صالح</mark>ہ اُسی وقت اعمال <mark>صالح</mark>ہ کہلاتے ہیں جب ان میں کسی قسم کا فساد نہ ہو صلاح کی ضد فساد ہے۔<mark>صالح</mark>ہ وہ ہے <mark>جو</mark> فساد سے مبرہ منزہ ہو جن کی نمازوں میں فساد ہے اور نفسانی اغراض چھپے ہوئے ہیں۔اُن