تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 404
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ولد سورة الفاتحة وَيُحَرِّكُ الْعِبَادَ إِلَى أَنْ يَنْتَجِعُوا حَضْرَتَهُ | دیتی ہے کہ وہ خلوص نیت اور صفائی قلب سے بارگاہ ایزدی بِالْحَاضِ النِّيَّةِ وَ إِخْلَاصِ الْجَنَانِ کی تلاش میں لگ جائیں۔ نیز یہ تمہید ) انہیں بتاتی ہے کہ وَيُظْهِرُ عَلَيْهِمْ أَنَّهُ عَيْنُ كُلِّ رَحْمَةٍ خدا تعالیٰ تمام رحمتوں کا سرچشمہ اور تمام نو ازشوں کا منبع ہے وَيَنْبُوعُ جَمِيعِ أَنْوَاعِ الْحَنَانِ وَمَخْصُوص اور ربّ ، رحمان، رحیم اور دیان ( جزا سزا کا مالک) کے باسم الرَّبِ وَالرَّحْمٰنِ وَالرَّحِيمِ ناموں سے مخصوص ہے۔ جن لوگوں کو ان صفات کا کا علم ہو جاتا وَالدَّيَّانِ فَالَّذِينَ يَطَّلِعُونَ عَلَى هَذِهِ ہے وہ ان کے مالک (اللہ تعالیٰ ) سے جدا نہیں ہو۔ ہوتے خواہ وہ الصَّفَاتِ فَلَا يُزَايِلُونَ أَهْلَهَا وَلَوْ موت کے بیابانوں میں جاگریں بلکہ وہ اُس کی طرف سَقَطُوا فِي فَلَوَاتِ الْمَمَاتِ بَلْ يَسْعَوْنَ دوڑتے ہیں اور صدق قلب اور صحت نیت سے اُسی کے پاس إِلَيْهِ وَيُوَقِنُونَ لَدَيْهِ بِصِدْقِ الْقَلْبِ ڈیرے جما لیتے ہیں۔ اس کی طرف اپنے گھوڑے دوڑاتے وَصِيَّةِ النِّيَّاتِ وَيَتَرَا كَفُونَ إِلَيْهِ ہیں ۔ اُس کی طرف والہانہ بڑھتے ہیں۔ اُن کے اندر خَيْلَهُمْ وَيَسْعَوْنَ كَالْمَشُوقِ وَيَضْطَرِمُ (اپنے) معشوق کی محبت کی آگ بھڑک اُٹھتی ہے۔ ایسا فِيهِمْ هَوَى الْمَعْشُوقِ فَلَا يُنَاقِشُ شخص اللہ تعالیٰ کی محبت کے غلبہ کی وجہ سے دوسری خواہشات أَهْوَاءٌ أُخْرَى عِنْدَ غَلَبَةِ هَوَى رَبِّ سے کوئی کش مکش نہیں رکھتا۔ پس ثابت ہوا ہوا کہ اس دعا کی تمہید الْعَالَمِينَ فَثَبَتَ أَنَّ فِي تَمْهِيدِ لذا میں عبادت کرنے والوں کے لئے ایک زبردست تحریک الدُّعَاءِ تَحْرِيحًا عَظِيمًا لِلْعَابِدِينَ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ثُمَّ بَعْدَ ذَلِكَ نَنْظُرُ إِلى دُعَاءِ عَلَّمَهُ پھر اس کے بعد ہم اُس دعا پر غور کرتے ہیں جو عِيسَى وَإِلَى دُعَاءِ عَلَّمَهُ رَبُّنَا الْأَعْلیٰ حضرت عیسی علیہ السلام نے سکھائی اور اس دعا پر بھی جو ہمارے لِيَتَبَيَّنَ مَا هُوَ الْفَرْقُ بَيْنَهُمَا لِذِي خدائے بزرگ و برتر نے سکھائی تا عقلمند پر واضح ہو جائے کہ الهى وَلِيَنْتَفِعَ بِهِ مَنْ كَانَ مِنَ ان دونوں کے درمیان کیا فرق ہے اور تا جو کوئی بھی نیک الصَّالِحِينَ لوگوں میں شامل ہے اس فرق سے فائدہ اُٹھائے ۔ فَاعْلَمْ أَنَّ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ پس جان لو کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے جو دعا سکھلائی عَلَّمَ دُعَاء يَتَزَرَى عَلَيْهِ إِنْصَافُنَا أَعْنِی ہے یعنی یہ کہ ہماری روز کی روٹی ہر روز ہمیں دیا کر ہمارا خُبْزَنَا كَفَافَنَا وَأَمَّا الْقُرْآنُ فَعَافَ ذِكْرَ انصاف اسے ناقص قرار دیتا ہے۔ اِس کے برخلاف