تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 402

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ١٠ سورة الفاتحة وَلَا تُعَدُّ كَمَالَاتُهُ وَ أَشَارَ فِي رَبِّ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس کی نہ صفات شمار کی جاسکتی ہیں الْعَالَمِينَ أَنَّ وَبُلَ رُبُوبِيَّتِهِ يَعُم اور نہ اس کے کمالات گنے جا سکتے ہیں۔ رَبِّ الْعَالَمِينَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِينَ وَ الْجِسْمَانِيِّينَ میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بارش وَ الرُّوْحَانِيِّينَ وَ أَشَارَ فِي الرَّحْمَنِ آسمانوں اور زمینوں پر بلکہ تمام جسمانی وروہ جسمانی و روحانی چیزوں پر عام الرَّحِيمِ أَنَّ الرَّحْمَةَ بِجَمِيعِ أَنْوَاعِهَا مِنَ ہے۔ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ ہر قسم کی اللهِ الْقَيُّوْمِ الْقَدِيمِ وَالْخَلاقِ الْكَرِيمِ رحمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ( ملتی ) ہے جو قیوم و قدیم وَأَشَارَ فِي قَوْلِهِ يَوْمِ الدِّينِ أَنَّ مَالِكَ اور خلاق و کریم ہے اُس نے اپنے الفاظ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ الْمُجَازَاةِ هُوَ اللهُ لَا غَيْرُهُ مِن میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ جزا وسزا کا مالک صرف اللہ تعالیٰ الْمَخْلُوقِينَ وَ أَنَّ أَبْحْرَ الْمُجَازَاتِ ہی ہے اس کے سوا مخلوق میں سے اور کوئی مالک نہیں۔ اُس جَارِيَةٌ وَهِيَ تَمْرُ مَرَّ السَّحَابِ كُلَّ حِينٍ کی جزا کے سمند ر جاری ہیں اور وہ ہر وقت بادلوں کی طرح وَكُلُّ مَا يَرَى عَبْدٌ مِنْ فَضْلِ الله وَ (فیض پہنچانے کے لئے ) گزر رہے۔ ) گزر رہے ہیں اور بندہ ا اور بندہ اعمال صالحہ، إِحْسَانَاتِهِ بَعْدَ أَعْمَالِ صَالِحَةٍ وَ صِدْقِهِ صدق اور اپنی قربانیوں کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس وَصَدَقَاتِهِ فَإِنَّمَا هُوَ صَنِيْعَةُ مُجَازَاتِهِ کے احسانات میں سے جو کچھ بھی پاتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی فَفِي هَذِهِ الْمَحَامِلِ إِشَارَاتُ رَفِيعَةٌ جزا ( دینے والی صفت ) کا احسان ہوتا ہے۔ (خدا کی ) اِن عَالِيَةٌ وَ دَلَالَاتٌ لَطِيفَةٌ مُتَعَالِيَةٌ عَلی صفاتِ حسنہ میں اس امر پر اعلیٰ و ارفع اشارے اور لطیف اور كُلِّ كَمَالٍ حَضْرَةِ اللهِ جَامِعٍ كُلِّ جَمَال بلند پایہ دلائل ہیں کہ ہر کمال اللہ تعالیٰ کے لئے سزاوار وَجَلَالٍ ثُمَّ مِنَ الْمَعْلُومِ أَنَّ اللَّامَ في ہے جو ہر جلال و جمال کا جامع ہے۔ پھر یہ تو ظاہر ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ لِلْاسْتِغْرَاقِ فَهُوَ يُشِيرُ إِلَى أَنَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ میں جو الف لام ہے وہ استغراق کے لئے ہے الْمَحَامِدَ كُلَّهَا لِلَّهِ بِالْإِسْتِحْقَاقِ وَأَمَّا اور اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سب صفاتِ حسنہ بطور دُعَاءُ الْإِنْجِيْلِ أَعْنِي لِيَتَقَدَّسِ اسْمُكَ " حق کے اللہ تعالیٰ کے لئے ہی (واجب) ہیں لیکن انجیل کی فَلَا يُشيرُ إِلى كَمَالٍ بَلْ يُخْبِرُ عَنْ یہ دعا کہ تیرا نام پاک ہو کسی کمال کی طرف اشارہ نہیں خَطَرَاتِ زَوَالٍ وَيُظْهِرُ الْأَمَانِي کرتی بلکہ زوال کا خدشہ پیدا کرتی اور اللہ تعالیٰ کے پاک لِتَقْدِيسِ الرَّحْمٰنِ كَأَنَّ التَّقَدُّسَ لَيْسَ ہونے کے لئے محض خواہشات کا اظہار کرتی ہے گویا اُسے 66