تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 398

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۸ سورة الفاتحة ذِكْرُ اللهِ تَعَالَى عَلَى اللِّسَانِ مِنْ غَيْرِ بلا تکلف جاری ہو جاتا ہے معارف کا درخت پیدا ہو جاتا اخْتِيَارٍ وَتَكَلَّفَ وَتَنْبُتُ شَجَرَةُ ہے اور پھل دینے لگتا ہے اور ہمیشہ تازہ بتازہ اپنا پھل دیتا الْمَعَارِفِ وَ تُشْمِرُ وَ تُؤْتِي أُكُلَهُ كُلَّ حِينٍ رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ وَفِي قَوْلِهِ تَعَالَى صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ میں ایک اور اشارہ ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ نے بعد میں عَلَيْهِمْ إِشَارَةً أُخْرَى وَهُوَ أَنَّ اللهَ تَعَالَی آنے والوں کو پہلے آنے والوں کے مشابہ پیدا کیا ہے خَلَقَ الْآخِرِينَ مُشَاكِلِينَ بِالْأَوَّلِينَ فَإِذَا پس جب کامل پیروی اور طبائع کی کی مناسبت کی وجہ سے اتَّصَلَتْ أَزْوَاجُهُمْ بِأَزْوَاجِهِمْ بِكَمَالِ اِن کی روحیں اُن کی روحوں سے اتصال پاتی ہیں تو وہ الْاِقْتِدَاءِ وَ مُنَاسَبَةِ الطَّبَائِعِ فَيَنْزِلُ خاص فیضان اُن کے دلوں سے ان کے دلوں پر نازل ہو الْفَيْضُ مِنْ قُلُوبِهِمْ إِلَى قُلُوبِهِمْ۔ جاتا ہے۔ ثُمَّ إِذَا تَمَّ إِفْضَاءُ الْمُسْتَفِيْضِ إِلَى پھر جب فیض چاہنے والے کی رسائی فیض رساں تک الْمُفِيضِ وَبَلَغَ الْأَمْرُ إِلى غَايَةِ الْوُصْلَةِ کامل ہو جاتی ہے اور باہمی تعلق کا معاملہ اپنی انتہاء کو پہنچ فَيَصِيرُ وُجُودُهُمَا كَشَيْءٍ وَاحِدٍ وَيَغِيبُ جاتا ہے تو ان دونوں کا وجود ایک ہی وجود کی مانند بن جاتا أَحَدُهُمَا فِي الْآخِرِ وَهُذِهِ الْحَالَةُ هِيَ الْمُعَبَّرُ ہے اور وہ ایک دوسرے میں غائب ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ عَنْهَا بِالْإِبْحَادِ وَفِي هَذِهِ الْمَرْتَبَةِ يُسَمَّى حالت ہے جسے اتحاد سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس مرتبہ میں السَّالِك فِي السَّمَاءِ تَسْمِيَةَ الْأَنْبِيَاءِ سالک کو آسمان میں نبیوں کا نام دیا جاتا ہے اس وجہ سے لِمُشَابَهَتِهِ إِيَّاهُمْ فِي جَوْهَرِهِمْ وَطَبْعِهِمْ که طبیعت اور جوہر میں ان سے مشابہت رکھتا ہے۔ چنانچہ عارفوں پر ( یہ امر ) مخفی نہیں ۔ ( ترجمہ از مرتب ) كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى الْعَارِفِينَ۔ کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۲۵ ، ۱۲۶) وَالْآنَ نَرَى أَنْ تُوَازِنَ هَذَا الدُّعَاءَ اور اب ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ کی دعا کا اس بِالدُّعَاءِ الَّذِي عَلَّمَهُ الْمَسِيحُ فِي الْإِنجِيلِ دُعا سے موازنہ کریں جو حضرت مسیح علیہ السلام نے انجیل لِيَتَبَيَّنَ لِكُلِّ مُنْصِفٍ أَيُّهُمَا أَشْفَى لِلْعَلِيلِ میں سکھائی ہے تاہر منصف پر یہ بات وا منصف پر یہ بات واضح ہو جائے کہ ان وَأَدْرَأُ لِلْغَلِيلِ وَ أَرْفَعُ شَأْنَا وَأَتَهُ بُرْهَاناً دونوں میں سے کونسی ( دعا کسی ) بیمارکو زیادہ شفاء دینے وَأَنْفَعُ لِلطَّالِبِيْنَ فَاعْلَمْ أَنَّ فِي إِنجِيلِ والی یا (کسی ) پیاسے کی پیاس کو زیادہ بجھانے والی ہے یا