تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 396
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۶ سورة الفاتحة تجھے پالیتا ہے اور تیرا روحانی انعام واکرام اسے نصیب ہوتا ہے اور تیرے غضب سے بچتا ہے اور گمراہی کی راہوں سے محفوظ رہتا ہے۔ چشمہ معرفت، روحانی خزائن ، جلد ۲۳ صفحه ۲۰۷،۲۰۶) وَ فِي السُّورَةِ إِشَارَةٌ إِلى بَرَكَاتِ اس سورۃ میں دعا کی برکتوں کی طرف اشارہ ہے اور اس الدُّعَاءِ وَ إِلَى أَنَّهُ كُلُّ خَيْرٍ يَنْزِلُ مِن بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر بھلائی آسمان سے نازل ہوتی ہے السَّمَاءِ وَ إِلَى أَنَّهُ مَنْ عَرَفَ الْحَقِّ اور پھر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس شخص نے حق کو پہچان وَثَبَّتَ نَفْسَهُ عَلَى الْهُدَى وَتَهَنَّبَ لیا اور اپنے آپ کو ہدایت پر قائم کر لیا اور مہذب اور صالح بن وَصَلُحَ فَلَا يُضَيِّعُهُ اللهُ وَيُدْخِلُهُ فِي گیا تو اُسے اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کیا کرتا بلکہ اُسے اپنے عِبَادِهِ الْمُنْعَمِينَ وَالَّذِي عَطَى رَبَّةَ انعام یافتہ بندوں میں داخل کر لیتا ہے اور جو شخص اپنے رب کی فَيَكُونُ مِنَ الْهَالِكِينَ۔ نافرمانی کرتا ہے وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ وَ فِي السُّورَةِ إِشَارَةٌ إِلى أَنَّ پھر اس سورۃ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ السَّعِيدَ هُوَ الَّذِي كَانَ فِيْهِ جَيْشُ نیک بخت وہ ہے جس کے اندر دعا کے لئے ایک غیر معمولی جوش الدُّعَاءِ لَا يَعْبَأُ وَلَا يَلْغَبُ وَ لا ہوتا ہے اور وہ کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا نہ تھکتا ہے نہ تیوری چڑھاتا يَعْبِسُ وَ لَا يَيْأَسُ وَ يَثِقُ بِفَضْلِ ہے اور نہ وہ مایوس ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے رب کے فضل پر بھروسہ رَبِّهِ إِلَى أَنْ تُدْرِكَهُ عِنَايَةُ اللهِ رکھتا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی عنایت اس کے شامل حال ہو فَيَكُونَ مِنَ الْفَائِزِينَ جاتی ہے اور وہ کامیاب ہونے والوں میں شامل ہوجاتا ہے۔ وَفِي السُّورَةِ إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ صِفَاتِ پھر اس سورت میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اللهِ تَعَالَى مُؤَثِرَةٌ بِقَدَرٍ إِيْمَانِ الْعَبْدِ صفات باری تعالیٰ اسی کے مطابق اثر دکھاتی ہیں جتنا بندہ کو ان بِهَا وَإِذَا تَوَجَّهَ الْعَارِفُ إِلَى صِفَة من پر ایمان ہو اور جب کوئی عارف خدا تعالیٰ کی صفات میں سے کسی صِفَاتِ اللهِ تَعَالَى وَأَبْصَرَهُ بِبَصَرِ صفت کی طرف توجہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کو اپنی روحانی آنکھ رُوْحِهِ وَآمَنَ ثُمَّ أَمَنَ ثُمَّ أَمَن حَتَّی سے دیکھ لیتا ہے اور اس پر ایمان لے آتا ہے پھر ایمان لے آتا فَلَى فِي إِيْمَانِهِ فَتَدْخُلُ رُوْحَانِيَّةُ هَذِهِ ہے۔ پھر ایمان لے آتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے ایمان میں فنا الصَّفَةِ فِي قَلْبِهِ وَتَأْخُذُهُ مِنْهُ فَيَرَی ہو جاتا ہے تو اس صفت کی روحانی تاثیر اس کے دل میں داخل ہو السَّالِكَ بَالَهُ فَارِضًا مِنْ غَيْرِ الرَّحْمنِ جاتی ہے اور اس پر قبضہ کر لیتی ہے تب سالک مشاہدہ کرتا ہے کہ