تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 386

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۶ سورة الفاتحة نہ تلوار کاٹ سکے نہ آگ جلا سکے اور نہ کوئی دوسری آفت نقصان پہنچا سکے۔ عزیزوں کی موتیں اس سے علیحدہ نہ کر سکیں۔ پیاروں کی جدائی اس میں خلل انداز نہ ہو سکے۔ بے آبروئی کا خوف کچھ رُعب نہ ڈال سکے۔ ہولناک دکھوں سے مارا جانا ایک ذرہ دل کو نہ ڈرا سکے۔ سو یہ دروازہ نہایت تنگ ہے۔ اور یہ راہ نہایت دشوار گزار ہے۔ کس قدر مشکل ہے۔ آہ! صد آه !! (اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۸۱، ۳۸۲) اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کو مستحکم اور مضبوط کرنے کی تین صورتیں ہیں اور خدا تعالیٰ نے وہ تینوں ہی سورۃ فاتحہ میں بیان کر دی ہیں۔ اوّل ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حُسن کو دکھایا ہے جبکہ جمیع محامد کے ساتھ اپنے آپ کو متصف کیا ہے یہ قاعدہ کی بات ہے کہ خوبی بجائے خود دل کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے خوبی میں ایک مقناطیسی جذب ہے جو دلوں کو کھینچتی ہے۔ جیسے موتی کی آب ، گھوڑے کی خوبصورتی ، لباس کی چمک دمک غرض یہ حسن ، پھولوں ، پتوں ، پتھروں ، حیوانات ، نباتات، جمادات کسی چیز میں ہو۔ اس کا خاصہ ہے کہ بے اختیار دل کو کھینچتا ہے پس خدا تعالیٰ نے پہلا مرحلہ اپنی خدائی منوانے کا حُسن کا رکھا ہے جب الْحَمْدُ لِلهِ فرمایا کہ جمیع اقسام حمد وستائش اسی کے لئے سزاوار ہیں۔ پھر دوسرا درجہ احسان کا ہوتا ہے انسان جیسے حُسن پر مائل ہوتا ہے ویسے ہی احسان پر بھی مائل ہوتا ہے اس لئے پھر اللہ تعالیٰ نے رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ صفات کو بیان کر کے اپنے احسان کی طرف توجہ دلائی ۔ لیکن اگر انسان کا مادہ ایسا ہی خراب ہو اور وہ حُسن اور احسان سے بھی سمجھ نہ سکے تو پھر تیسرا ذریعہ سورۃ فاتحہ میں غیر المغضوب کہہ کر متنبہ کیا ہے۔ اعلیٰ درجہ کے لوگ تو حسن سے فائدہ اٹھاتے اور جوان سے کم درجہ پر ہوں وہ احسان سے فائدہ اُٹھا لیتے ہیں لیکن جو ایسے ہی پلید طبع ہوں ان کو اپنے جلال اور غضب سے متوجہ کیا ہے یہودیوں کو مغضوب کہا ہے۔ اور ان پر طاعون ہی پڑی تھی ۔ خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں یہودیوں کی راہ اختیار کرنے سے منع فرمایا۔ یا یوں کہو کہ طاعون کے عذاب شدید سے ڈرایا ہے۔ شیطان بے باک انسان پر ایسا سوار ہے کہ وہ سن لیتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے ۔ اصل یہ ہے کہ جب تک جذبات اور شہوات پر ایک موت وارد ہو کر انہیں بالکل سرد نہ کر دے خدا تعالیٰ پر ایمان لانا مشکل ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۹ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۶،۵ ) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ - الى آخر السورۃ۔ یہ ساری باتیں چاہتی ہیں کہ کوئی رب ہے اور کوئی چیز مخلوق بھی ہے۔ پس ہم کو اپنی خدائی کا ثبوت دیں۔ خدا نے انسان کو مخلوق پیدا کیا ہے اور دنیا میں بھی مخلوق بنایا ہے۔ پھر ہم چاند سورج وغیرہ کو کس طرح خدامان لیں۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخه ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۲ ء صفحہ ۷)