تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 376
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۶ سورة الفاتحة سے بچا کہ ہم اس قوم میں سے ہو جائیں جن پر دنیا میں ہی تیرا عذاب نازل ہوا یعنی یہود جو حضرت عیسی مسیح کے وقت میں تھی جو طاعون سے ہلاک کی گئی ۔ خدایا ہمیں اس سے بچا کہ ہم اُس قوم میں سے ہو جائیں جن کے شامل حال تیری رہنمائی نہ ہوئی اور وہ گمراہ ہو گئی یعنی نصاری ۔ اس دعا میں یہ پیشگوئی مخفی ہے کہ بعض مسلمانوں میں سے ایسے ہوں گے کہ وہ اپنے صدق وصفا کی وجہ سے پہلے نبیوں کے وارث ہو جائیں گے اور نبوت اور رسالت کی نعمتیں پائیں گے اور بعض ایسے ہوں گے کہ وہ یہودی صفت ہوجائیں گے جن پر دنیا میں ہی عذاب نازل ہوگا اور بعض ایسے ہوں گے کہ وہ عیسائیت کا جامہ پہن لیں گے۔ کیونکہ خدا کے کلام میں یہ سنت مستمرہ ہے کہ جب ایک قوم کو ایک کام سے منع کیا جاتا ہے تو ضرور بعض ان میں سے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے علم میں اس کام کے مرتکب ہونے والے ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ وہ نیکی اور کہ وہ نیکی اور سعادت کا حصّہ لیتے ہیں ابتدائے دنیا سے اخیر تک جس قدر خدا نے کتابیں بھیجیں اُن تمام کتابوں میں خدا تعالیٰ کی یہ قدیم سنت ہے کہ جب وہ ایک قوم کو ایک کام سے منع کرتا ہے یا ایک کام کی رغبت دیتا ہے تو اس کے علم میں یہ مقدر ہوتا ہے کہ بعض اُس کام کو کریں گے اور بعض نہیں۔ پس یہ سورۃ پیشگوئی کر رہی ہے کہ کوئی فرد اس اُمت میں سے کامل طور پر نبیوں کے رنگ میں ظاہر ہوگا تا وہ پیشگوئی جو آیت صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے مستنبط ہوتی ہے وہ اکمل اور اتم طور پر پوری ہو جائے اور کوئی گروہ ان میں سے ان یہودیوں کے رنگ میں ظاہر ہوگا جن پر حضرت عیسیٰ نے لعنت کی تھی اور وہ عذاب الہی میں مبتلا ہوئے تھے تا وہ پیشگوئی جو آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ سے مستنبط ہوتی ہے ظہور پذیر ہو۔ اور کوئی گروہ ان میں سے عیسائیوں کے رنگ میں ہو جائے گا عیسائی بن جائے گا جو خدا کی رہنمائی سے بوجہ اپنی شراب خواری اور اباحت اور فسق و فجور کے بے نصیب ہو گئے تا وہ پیشگوئی جو آیت وَلا الصَّالِین سے مترشح ہورہی ہے ظاہر ہو جائے ۔ اور چونکہ یہ بات مسلمانوں کے عقیدہ میں داخل ہے کہ آخری زمانہ میں ہزار ہا مسلمان کہلانے والے یہودی صفت ہو جائیں گے اور قرآن شریف کے کئی ایک مقامات میں بھی یہ پیشگوئی موجود ہے اور صدہا مسلمانوں کا عیسائی ہو جانا یا عیسائیوں کی سی بے قید اور آزاد زندگی اختیار کرنا خود مشہود اور محسوس ہو رہا ہے بلکہ بہت سے لوگ مسلمان کہلانے والے ایسے ہیں کہ وہ عیسائیوں کی طرز معاشرت پسند کرتے ہیں اور مسلمان کہلا کر نماز روزہ اور حلال اور حرام کے احکام کو بڑی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ دونوں فرقے یہودی صفت اور عیسائی صفت اس ملک میں پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں سو یہ دو پیشگوئیاں سورۃ فاتحہ کی تو تم پوری ہوتی دیکھ چکے ہو اور