تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 366 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 366

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۶ سورة الفاتحة ودود وَعِيْدُهُ وَ جَلَّتْ مَوَاعِيدُهُ وَمَنْ لَّمْ سے ڈرو جس کی وعید بہت بڑی ہے اور جس کے يَكُن عَلى هُدَى الْأَنْبِيَاءِ مِنْ فَضْلِ الله وعدے عظیم الشان ہیں ۔ پس جو شخص خدائے و الْوَدُودِ فَقَدْ خِيفَ عَلَيْهِ أَنْ يَكُونَ کے فضل سے نبیوں کی ہدایت پر قائم نہ ہوگا اُس کے كَالنَّصَارَى أَوِ الْيَهُودِ فَاشْتَدَّتِ الْحَاجَةُ متعلق ڈر ہے کہ وہ نصاری یا یہود کی مانند ہو جائے۔ إلى نموذج النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ لِيَدْفَعَ لہذا نبیوں اور رسولوں کے نمونہ کی شدید حاجت اجت ہے تا نُورُهُمْ ظُلُمَاتِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ اُن کا نُور مغضوب علیہم کی تاریکیوں اور ضالین وَشُبُهَاتِ الضَّالِّينَ وَلِذَالِكَ وَجَبَ کے شبہات کو دُور کرے۔ اسی لئے اس زمانہ میں ظُهُورُ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ فِي هَذَا الزَّمَانِ اُمت میں سے مسیح موعود کا ظہور واجب ہو گیا ہے مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِأَنَّ الضَّالِّينَ قَدْ كَثُرُوا کیونکہ ضالین کی بڑی کثرت ہوگئی ہے لہذا تقابل فَاقْتَضَتِ الْمَسِيحَ ضُرُورَةُ الْمُقَابَلَةِ کے لزوم نے مسیح موعود کے ظہور کا تقاضا کیا۔ تم خود فوج وَإِنَّكُمْ تَرَوْنَ أَفْوَاجًا مِّنَ الْقِسِيْسِينَ در فوج پادریوں کو دیکھ رہے ہو جو الضالین ( کا الَّذِينَ هُمُ الضَّالُونَ فَأَيْنَ الْمَسِيحُ گروه ) ہیں۔ پھر اگر تمہیں کچھ سمجھ ہے تو ( سوچو کہ ) وہ الَّذِي يَذُبُهُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ مسیح موعود کہاں ہے جو اُن کا مقابلہ کرے؟ أَمَا ظَهَرَ أَثَرُ الدُّعَاءِ أَوْ تُرِ كُتُمْ فِي کیا تمہاری دعا کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوا؟ یا (بالفاظ اللَّيْلَةِ اللَّيْلَاءِ أَمْ عُلِّمْتُمْ دُعَاءَ صِرَاطَ دیگر ) تمہیں اندھیری رات میں چھوڑ دیا گیا ہے؟ کیا الَّذِينَ لِيَزِيدَ الْحَسْرَةُ وَ تَكُونُوا تمہیں صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا اسی لئے كَالْمَحْرُومِينَ فَالْحَقِّ وَالْحَقِّ أَقُولُ إِنَّ اللهَ سکھائی گئی تھی کہ تمہاری حسرت میں اضافہ ہو اور تم بے مَا قَسَمَ الْفِرَقَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ في نصیب رہ جاؤ - حق بات یہ ہے اور حق بات ہی میں کہتا هَذِهِ السُّورَةِ إِلَّا بَعْدَ أَنْ أَعَدَّ كُلَّ نَمُوذَج ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں تین گروہوں میں تقسیم مِنْهُمْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَإِنَّكُمْ تَرَوْنَ كَثْرَةَ اُس وقت بیان فرمائی جبکہ اُس نے ان میں سے ہر ایک کا الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَكَثْرَةَ الضَّالِّينَ نمونہ اس اُمت میں مقدر کر دیا تھا۔ اب تم مغضوب فَأَيْنَ الَّذِي جَاءَ عَلَى نَمُوذَجِ النَّبِيِّينَ وَ علیہم کی کثرت اور ضالین کی کثرت تو زت تو دیکھ رہے ہو الْمُرْسَلِينَ مِنَ السَّابِقِيْنَ مَا لَكُمْ لا پھر وہ (بزرگ) کہاں ہے جو سابقہ نبیوں اور رسولوں کے