تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 364
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۴ سورة الفاتحة انسانوں کے ہلاک ہو جانے کی امید تھی ۔ اس لئے خدا نے سورہ فاتحہ میں جس سے قرآن کا افتتاح ہوتا ہے اس مہلک فتنہ سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی اور یاد رہے کہ قرآن شریف میں یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جس کی نظیر اور کوئی پیشگوئی نہیں ۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۲۲۷ تا ۲۳۰) الْفَاتِحَةُ تَفْتَحُ عَلَيْكُمْ بَابَ الْهُدَى | سورہ فاتحہ تمہارے لئے ہدایت کی راہ کھولتی ہے چنانچہ فَإِنَّ اللَّهَ بَدَاءَ فِيهَا مِنَ الْمَبْدَاءِ وَجَعَلَ خدا تعالیٰ نے اس میں مبدء عالم سے ابتدا کیا ہے اور دنیا اخِرَ الْأَزْمِنَةِ زَمَنَ الضَّالِّينَ وَانَّهُمْ کے اس سلسلہ کو ضالین کے زمانہ پرختم کیا ہے اور وہ نصاری کا هُمُ النَّصَارَى كَمَا جَاءَ مِنْ نَّبِيِّنَا گروہ ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث صحیحہ میں الْمُجْتَنِي فَأَيْنَ فِيهَا ذِكْرُ دَجَّالِكُمْ آیا ہے اب بتاؤ تمہارے دجال کا ذکر سورۃ فاتحہ میں کہاں ہے فَأَرُونَاهُ مِنَ الْقُرْآنِ اگر ہو تو قرآن میں ہمیں دکھلاؤ۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) ( خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۱۱۵) وَهُذَا الْمَقَامُ لَيْسَ كَمَقَامٍ تَمرُ عَلَيْهِ یہ مقام ایسا نہیں کہ تو اس پر سے غافلوں کی طرح گزر كَغَافِلِينَ بَلْ هُوَ الْمَنْبَعُ لِلْحَقِيقَةِ الْمَغْفِيَّةِ جائے بلکہ یہ اس محفی حقیقت کا منبع ہے جس کی بناء پر نصاری کا الَّتِي سُمِيَتِ النَّصَارَى لَهَا الضَّالِّينَ نام الضَّالِّين رکھا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں وَلَقَدْ سَمَاهُمُ اللَّهُ بِهَذَا الْإِسْمِ فِي سُورَةِ ( عیسائیوں کو ) اس ( ضالین کے ) نام سے اس لئے موسوم الْفَاتِحَةِ لِيُشِيرَ إِلَى هَذِهِ الضَّلَالَةِ وَ کیا ہے تا وہ اس گمراہی کی طرف اشارہ کرے (جس میں یہ لِيُشِيرَ إِلَى أَنَّ عَقِيدَةً حَيَاةِ الْمَسِيحِ أُمَّ قوم مبتلا ہے ) نیز اس لئے بھی کہ تا وہ اس طرف اشارہ کرے ضَلَالَاتِهِمْ كَمِثْلِ أُمِّ الْكِتَابِ مِن کہ حیات مسیح کا عقیدہ اُن کی تمام گمراہیوں کی جڑ ہے جیسا کہ الصُّحُفِ الْمُطَهَّرَةِ فَإِنَّهُمْ لَوْ لَمْ يَرْفَعُوهُ قرآن پاک میں سے ( یہ سورۃ فاتحہ ) اس کتاب کی اصل ہے۔ إِلَى السَّمَاءِ بِجِسْمِهِ الْعُنْصُرِي لَمَا جَعَلُوهُ اگر وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جسد عنصری کے ساتھ آسمان مِنَ الْأَلِهَةِ وَمَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَرْجِعُوا پر نہ چڑھاتے تو وہ اسے معبود بھی نہ ٹھہرا سکتے اور ان کے لئے إِلَى التَّوْحِيدِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَرْجِعُوا مِنْ ممکن نہیں کہ اس عقیدہ سے رجوع کئے بغیر توحید کی طرف هُذِهِ الْعَقِيدَةِ فَكَشَفَ اللهُ هَذِهِ الْعُقْدَةَ لوٹ سکیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اِس اُمت پر رحم کرتے حم کرتے ہوئے رُحْمًا عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ وَ أَثْبَتَ بِثُبُوت اس عقدہ کو کھول دیا اور واضح ثبوت کے ساتھ ثابت فرمایا بَيْن واضح أَنَّ عِيسَى مَا صُلِب ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر قتل نہیں کیا گیا تھا