تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 309

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۹ سورة الفاتحة انسان کی بڑی سے بڑی خواہش دنیا میں یہی ہے کہ اس کو سکھ اور آرام ملے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی راہ مقرر کی ہے جو تقویٰ کی راہ کہلاتی اور دوسرے لفظوں میں اس کو قرآن کریم کی راہ کہتے ہیں اور یا اس کا نام صراط مستقیم رکھتے ہیں۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۳) نماز کا مغز اور روح بھی دُعا ہی ہے جو سورہ فاتحہ میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے جب ہم اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہتے ہیں تو اس دُعا کے ذریعہ سے اس نور کو اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے اُتر تا اور دلوں کو یقین اور محبت سے منور کرتا ہے۔ القلم ایام اسح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۱) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں منعم علیہ گروہ میں سے شہیدوں کا گروہ بھی ہے اور اس سے یہی مراد ہے کہ استقامت عطا ہو۔ جو جان تک دیدینے میں بھی قدم کو ہلنے نہ دے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۵ مورخه ۱۰ جولائی ۱۹۰۱ء صفحه ۱) اهْدِنَا الصِّرَاطَ میں تکمیل علمی کی طرف اشارہ ہے اور تکمیل عملی کا بیان صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں فرمایا کہ جو نتائج اکمل اور اتم ہیں وہ حاصل ہو جائیں۔ جیسے ایک پودا جو لگایا گیا ہے جب تک پورا نشو و نما حاصل نہ کرے اُس کو پھول پھل نہیں لگ سکتے اسی طرح اگر کسی ہدایت کے اعلیٰ اور اکمل نتائج موجود نہیں ہیں وہ ہدایت مُردہ ہدایت ہے جس کے اندر کوئی نشوونما کی قوت اور طاقت نہیں ہے ۔۔۔۔۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہہ کر ایک قید لگا دی ہے یعنی یہ راہ کوئی بے ثمر اور حیران اور سرگردان کرنے والی راہ نہیں ہے بلکہ اس پر چل کر انسان با مراد اور کامیاب ہوتا ہے۔ ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۳۱ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۱ء صفحه ۱) خدا تعالیٰ کے راست بازوں اور منعم علیہ کی راہ ہی وہ اصل مقصود ہے جو انسان کے لئے خدا تعالیٰ نے رکھا الحکم جلد ۵ نمبر ۴۵ مؤرخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۲) جو شخص بیعت میں داخل ہوتا ہے اُس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان مقاصد کو مد نظر رکھے جو بیعت سے ہیں یہ امور کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہو جاوے اصل منشا اور مدعا سے دور ہیں ۔۔۔۔۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ شخص بڑا ہی بد بخت ہے اور اُس کی کچھ بھی قدر اللہ تعالیٰ کے حضور نہیں جس نے گو سارے انبیاء علیہم السلام کی زیارت کی ہو مگر وہ سچا اخلاص وفاداری اور خدا تعالیٰ پرسچا ایمان، خشیت اللہ اور تقویٰ اُس کے دل میں نہ ہو۔ پس یا د رکھو کہ نری زیارتوں سے کچھ نہیں ہوتا خدا تعالیٰ نے