تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 297
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۷ سورة الفاتحة اللهِ بِشَرْطِ اتَّبَاعِهِمْ وَاقْتِدَ آمِهِمْ بِسَيِّدِ | فرمایا ہے ۔ پس دیکھو کس طرح اللہ تعالیٰ نے افراد اُمت کو الْمَحْبُوبِيْنَ وَتَدُلُّ آيَةُ اهْدِنَا الصِّرَاط اپنے محبوب قرار دیا ہے بشرطیکہ وہ محبوبوں کے سردار (صلی الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ اللہ علیہ وسلم ) کی پیروی کریں اور آپ کے نمونہ پر عَلَيْهِمْ أَن تُرَاثَ السَّابِقِيْنَ مِنَ چلیں ۔ پھر آیت اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الْمُرْسَلِينَ وَالصَّدِيقِينَ حَقٌّ وَاجِبُ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ غَيْرُ مَجْنُودٍ وَمَفْرُوضٌ لِلَّاحِقِينَ مِنَ پہلے مرسلوں اور صدیقوں کی وراثت ایک لازمی اور نہ ختم الْمُؤْمِنِينَ الصَّالِحِينَ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ ہونے والا حق ہے اور بعد میں آنے والے نیکو کار مومنوں وَهُمْ يَرِثُونَ الْأَنْبِيَاء وَيَجِدُونَ مَا کے لئے قیامت تک اس ورثہ کا ملنا ضروری ہے۔ پس وہ وَجَدُوا مِنْ إِنْعَامَاتِ اللهِ وَهَذَا هُوَ نبیوں کے وارث بنتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے وہ سب الْحَقُّ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ۔ انعامات پاتے ہیں جو نبیوں نے پائے اور یہی حق بات وَأَمَّا سِر ذلِكَ التَّوَارُثِ وَلِيِّيَّةِ ہے ۔ پس تو شک کرنے والوں میں ( شامل ) نہ ہو۔ الْمُوْرَثِ وَالْوَارِثِ فَتَنْكَشِفُ مِنْ تِلْكَ اس تَوَارُت کا راز اور مورث اور وارث بننے کا اصل الْآيَةِ الَّتِي تُعَلِّمُ التَّوْحِيدَ وَ تُعَظِمُ سبب اس آیت سے منکشف ہوتا ہے جو تو حید سکھاتی اور اُس الرَّبَّ الْوَحِيدَ فَإِنَّ اللهَ الْمُعِينَ وَأَرْحَمَ واحد ولا شریک پروردگار کی عظمت بیان کرتی ہے کیونکہ الرَّاحِمِينَ إِذَا عَلَّمَ دَقَائِقَ التَّوْحِيدِ پوری مدد کرنے والے اور سب سے زیادہ رحم کرنے والے وَبَالَغَ فِي التَّلْقِيْنِ وَقَالَ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ خدا نے جب توحید کی باریک راہیں سکھائیں اور اُن کی إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ فَأَرَادَ عِنْدَ هَذَا خوب تلقین کی اور فرمایا إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تو اس التَّعْلِيمِ وَ التَّفْهِيْمِ أَنْ يَقْطَعَ عُرُوقَ تعلیم و تفہیم سے اُس نے یہ ارادہ فرمایا کہ اپنے خاص فضل الشِّرْكِ كُلَّهَا فَضْلًا مِن لَّدُنْهُ وَ رَحْمَةً سے اور خَاتَمَ النَّبِيِّين کی اُمت پر اپنی خاص رحمت مِنْهُ عَلَى أُمَّةٍ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ لِيُنَجِّيَ فرماتے ہوئے شرک کی تمام رگیں کاٹ دے تا اس اُمت کو هَذِهِ الْأُمَّةَ مِنْ أَفَاتٍ وَرَدَتْ عَلَى اُن آفات سے نجات دے جو پہلوں پر وارد ہوئی تھیں۔ الْمُتَقَدِّمِينَ۔ فَعَلَّمَنَا دُعَاء مَبَرَةً و پس اُس نے بطور اپنے کرم اور احسان کے ہمیں ایک دُعا سکھائی عَطَاء وَجَعَلَنَا مِنْهُ مِنَ الْمُسْتَخْلَصِينَ اور اس کے ذریعہ ہمیں (اپنے) برگزیدہ بندوں میں شامل کر لیا۔