تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 288

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۸ سورة الفاتحة عَلَّمَ هُذَا الدُّعَاءَ لِيَكُونَ بِشَارَةً گذشتہ نبیوں کو دیا تھا اور اسی لئے اس نے یہ دُعا سکھائی تا لِلطَّالِبِينَ فَلَزِمَ مِنْ ذَالِكَ أَنْ يَخْتَتِمَ طالبوں کے لئے خوش خبری ہو۔ پس اس سے لازم آیا کہ سِلْسِلَةُ الْخُلَفَاءِ الْمُحَمَّدِيَّةِ عَلَى مَثِيْلِ محمدی خلفاء کا سلسلہ مثیلِ عیسیٰ پر ختم ہوتا موسوی سلسلہ کے عِيسَى لِيَتِمَّ الْمُمَاثَلَةُ بِالسِّلْسِلَةِ ساتھ (اس کی مماثلت مکمل ہو جائے اور کریم جب وعدہ الْمُؤْسَوِيَّةِ وَالْكَرِيمُ إِذَا وَعَدَ وَقُى کرتا ہے تو اسے پورا کیا کرتا ہے۔ ( ترجمہ از مرتب ) اعجاز اسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۷۰ حاشیه ) وَاللَّهِ لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ الَّذِي هُوَ أَهْلُ اور خدا کی قسم قرآن شریف میں جو تمام اختلافوں کا الْفَصْلِ وَالْقَضَاءِ إِلَّا خَبْرُ ظُهُورِ خَاتَمِ فیصلہ کرنے والا ہے کہیں ذکر نہیں ہے کہ خاتم الخلفاء سلسلہ الْخُلَفَاءِ مِنْ أُمَّةِ خَيْرِ الْوَرى فَلَا تَقْفُوا محمد یہ کا موسوی سلسلہ سے آئے گا۔اس کی پیروی مت کرو کہ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ وَ قَدْ أُعْطِيتُمْ کوئی دلیل تمہارے پاس نہیں ہے بلکہ برخلاف اس کے تم کو فِيهِ مِنَ الْهُدَى وَلَا تُخْرِجُوا مِنْ دلیل دی گئی ۔ اور کلمات متفرقہ اپنے منہ سے نہ نکالو کہ وہ أَفْوَاهِكُمْ كَلِمَاتٍ شَتّى الَّتِي لَيْسَتْ هِيَ کلمات اس تیر کی طرح ہیں جو اندھیرے میں چلایا جائے اور إِلَّا كَسَهُم فِي الظُّلُمَاتِ يُرْهى۔ وَإِنَّ هَذَا یہ وعدہ جو مذکور ہوا سچا وعدہ ہے اور تم کو کوئی دھوکا نہ دے۔ الْوَعْدَ وَعْدُ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُم مَّا اور سورہ فاتحہ میں دوسری بار اس وعدہ کی طرف اشارہ فرمایا تَسْمَعُونَ مِنْ أَهْلِ الْهَوَى وَقَدْ أَشِيرَ إِلَيْهِ ہے اور یہ آیت سورہ فاتحہ یعنی صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ في الْفَاتِحَةِ مَرَّةً أُخْرَى وَ تَقْرَءُونَ فِي عَلَيْهِمُ اپنی نمازوں میں پڑھتے ہیں۔ پھر حیلہ و بہا نہ اختیار الصَّلوةِ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ کرتے ہیں اور حجت الہی کے رفع دفع کے لئے مشورے تَسْتَقْرُونَ سُبُلَ الْإِنْكَارِ وَتُسِرُونَ کرتے ہیں تمہیں کیا ہو گیا کہ خدا تعالیٰ کے فرمودہ کو اپنے النَّجْوَى مَالَكُمْ تَدُوسُونَ قَوْلَ اللهِ تَحْتَ | پیروں میں روندتے ہو۔ کیا ایک دن تم نہیں مرو گے یا الْأَقْدَامِ أَلَا تَمُوتُونَ أَوْ تُ تُرَكُونَ سُدی کوئی تم کو نہیں پوچھے گا۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه، ۱۰۹، ۱۱۰) اگر بروزی معنوں کے رو سے بھی کوئی شخص نبی اور رسول نہیں ہو سکتا تو پھر اس کے کیا معنی ہیں کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - ایک غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۰۹) قرآن شریف بھی سلسلہ موسویہ کے بالمقابل ایک سلسلہ قائم کرتا ہے۔ اسی کی طرف علاوہ اور آیات