تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 282

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۲ سورة الفاتحة کر کے خدا کا مقرب بنا اور مرتبہ نبوت پایا۔ اس کے مقابل پر اگر کوئی شخص بجائے تین برس کے پچاسن۵ برس بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے تب بھی وہ مرتبہ نہیں پا سکتا گو یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کوئی کمال نہیں بخش سکتی اور نہیں خیال کرتے کہ اس صورت میں لازم آتا ہے کہ خدا کا یہ دُعا سکھلانا کہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ ایک دھوکا دینا ہے۔ چشمه سیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۸۱، ۳۸۲ حاشیه ) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی راہ طلب کی گئی ہے اور میں نے کئی مرتبہ یہ بات بیان کی ہے کہ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں چار گروہوں کا ذکر ہے نبی ، صدیق ، شہید ، صالح ۔ پس جب کہ ایک مومن یہ دعا مانگتا ہے تو اُن کے اخلاق اور عادات اور علوم کی درخواست کرتا ہے۔ اس پر اگر ان چار گروہوں کے اخلاق حاصل نہیں کرتا تو یہ دُعا اُس کے حق میں بے ثمر ہو گی اور وہ بے جان لفظ بولنے والا حیوان ہے یہ چار طبقے ان لوگوں کے ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ سے علوم عالیہ اور مراتب عظیمہ حاصل کئے ہیں۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مؤرخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ ء صفحہ ۶) اللہ تعالیٰ نے جو اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دُعا تعلیم کی ہے اور ہر رکعت نماز میں پڑھی جاتی ہے اگر یہ نعمت کسی کو ملنے والی ہی نہ تھی تو اس دعا کی تعلیم کی کیا ضرورت تھی ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۲ مؤرخه ۲۴ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵) مکالمہ الہی کا اگر انکار ہو تو پھر اسلام ایک مردہ مذہب ہوگا۔ اگر یہ دروازہ بھی بند ہے تو اس اُمت پر قہر ہوا خیر الامم نہ ہوئی ۔ اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ دُعا بے سود ٹھہری ۔ تعجب ہے کہ یہود تو یہ امت بن جاوے اور مسیح دوسروں سے آوے۔ الحکم جلدے نمبر ۵ مؤرخہ ۷ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۴) نبوت کی علامت مکالمہ ہے لیکن اب اہل اسلام نے جو یہ اپنا مذہب قرار دیا ہے کہ اب مکالمہ کا دروازہ بند ہے اس سے تو یہ ظاہر ہے کہ خدا کا بڑا قہر اسی اُمّت پر ہے اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دُعا ایک بڑا دھو کہ ہوگی ۔ اور اس کی تعلیم کا کیا فائدہ ہوا گویا یہ عبث تعلیم خدا نے دی۔ البدر جلد ۲ نمبر ۶ مؤرخہ ۲۷ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۴۲) بھلا اگر خدا تعالیٰ نے اس امت کو اس شرف سے محروم ہی رکھنا تھا تو یہ دُعا ہی کیوں سکھائی اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اس دعا سے تو صاف نکلتا ہے کہ یا الہی ہمیں پہلے منعم علیہم لوگوں کی راہ پر چلا اور جو ان کو الہامات ملے ہمیں بھی وہ انعامات عطا فرما۔ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کون تھے ۔ خدا نے خود ہی