تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 277

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۷ سورة الفاتحة پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا اور آیت انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ گواہی دیتی ہے کہ اس مصفی غیب سے یہ امت محروم نہیں اور مصفی غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق براہ راست بند ہے اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہبت کے لئے محض بروز اور خلیت اور فنا فی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔ ایک غلطی کا ازالہ ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۰۹ حاشیه ) ثُمَّ انْظُرُ إِلى قَوْلِهِ تَعَالَى وَدُعَائِهِ پھر اللہ تعالیٰ کے کلام اور اُس کی اُس دعا پر غور کرو جو الَّذِي عَلَّمَنَا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اُس نے ہمیں سکھلائی ہوئی ہے یعنی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ، فَإِنَّا أُمِرْنَا الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۔ اس میں ہمیں أَن نَّقْتَدِيَ الْأَنْبِيَاءَ كُلَّهُمْ وَنَطْلُبَ مِن حکم دیا گیا ہے کہ ہم سب نبیوں کی پیروی کریں اور اللہ اللهِ كَمَالَاتِهِمْ ، وَلَمَّا كَانَتْ كَمَالَاتُ تعالیٰ سے اُن کے کمالات طلب کریں اور جب نبیوں کے الْأَنْبِيَاءِ كَأَجْزَاءٍ مُتَفَرِّقَةٍ وَأُمِرُنَا أَنْ کمالات متفرق اجزا کی مانند ہیں اور ہمیں ان سب کے تطْلُبَهَا كُلَّهَا وَنَجْمَعَ مَجْمُوعَةَ تِلْكَ طلب کرنے اور ان سب اجزاء کا مجموعہ اپنے نفوس میں جمع الْأَجْزَاءِ فِي أَنْفُسِنَا، فَلَزِمَ أَنْ تَحْصُلَ لَنَا کرنے کا حکم دیا گیا۔ پس لازم ہوا کہ ہمیں ظلی طور پر رسول شَيْءٍ بِالظَّلِّيَّةِ وَمُتَابَعَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں ایسی چیز بھی مل سکتی ہے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَحْصُلُ لِفَرْدٍ فَرْدٍ جو انبیاء کے افراد میں سے کسی ایک فرد کو بھی حاصل نہیں مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَقَدِ اتَّفَقَ عُلَمَاءُ الْإِسْلَامِ ہوئی ۔ اور علماء اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ کبھی کسی غیر أَنَّهُ قَدْ يُوجَدُ فَضِيلَةٌ جُزْئِيَّةٌ فِي غَيْرِ نَبِي نبی میں وہ جز کی فضیلت بھی پائی جاسکتی ہے جو نبی میں نہیں لَّا تُوْجَدُ فِي نَبِي ( حمامة البشری ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۹۴، ۲۹۵) پائی جاتی ۔ ( ترجمه از مرتب ) إِنَّ الْمُعْجِزَاتِ تَقْتَضِي الْكَرَامَاتِ معجزات چاہتے ہیں کرامات کو تا کہ اُن کا نشان قیامت لِيَبْقَى أَثَرُهَا إِلَى يَوْمِ الدِّينِ وَإِنَّ الَّذِينَ تک باقی رہے اور اپنے نبی علیہ السلام کے وارثوں کو بطور وَرِثُوا نَبِيَّهُمْ يُعْطَوْنَ مِنْ نِعَمِهِ عَلَى ظلیت کے آپ کی نعمتیں مرحمت ہوتی ہیں۔ اور اگر یہ قاعدہ الطَّرِيقَةِ الظَّلِيَّةِ۔ وَلَوْلَا ذُلِكَ لَبَطَلَتُ جاری نہ رہتا تو نبوت کے فیض بالکل باطل ہو جاتے ۔ اس فُيُوضُ النُّبُوَّةِ فَإِنَّهُمْ كَأَثَرِ لِعَيْنِ لئے کہ یہ وارث نقش ہوتے ہیں اُس اصل کے جو گزرچکی