تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 268

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۸ سورة الفاتحة 66 اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی کہ تم پنج وقت نمازوں میں یہ دُعا پڑھا کرو کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنے اے ہمارے خدا اپنے منعم علیہم بندوں کی ہمیں راہ بتا وہ کون ہیں ۔ ۔ نبی اور صدیق اور شہید اور صلحاء۔ اس دُعا کا خلاصہ مطلب یہی تھا کہ ان چاروں گروہوں میں سے جس کا زمانہ تم پاؤ اس کے سایہ صحبت میں آجاؤ اور اس سے فیض حاصل کرو۔ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۱۲ ) قَالَ اللهُ جَلَّ شَأْنُهُ ثُلَةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے۔ خُلةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ * وَحَثَّ عِبَادَهُ عَلَى وَثُلَةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ اور اپنے بندوں کو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ دُعَاءِ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا کرنے کی الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ فَمَا مَعْنَى الدُّعَاءِ ترغیب دی ہے۔ اگر ہم نے محروم ہی رہنا تھا تو دُعا لَوْ كُنَّا مِنَ الْمَحْرُومِينَ وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ سکھانے کے کیا معنی؟ اور تمہیں معلوم ہے کہ انعام یافتہ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ أَوَّلًا هُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالرُّسُلُ وَمَا كَانَ الْإِنْعَامُ مِنْ لوگوں میں سے سب سے پہلے نبی اور رسول ہی ہیں اور قِسْمِ دِرْهَمٍ وَدِينَارٍ بَلْ مِنْ نارِ بَلْ مِنْ قِسْمٍ عُلُوم یہ انعام درہم و دینا کی قسم کا نہیں بلکہ علوم و معارف اور وَمَعَارِفَ وَنُزُولِ بَرَكَاتٍ وَأَنْوَارٍ كَمَا نزول برکات و انوار کی قسم کا ہے جیسا کہ عارف لوگوں تَقَرَّرَ عِنْدَ الْعَارِفِينَ کے نزدیک یہ بات طے شدہ ہے ۔ وَ إِذَا أُمِرْنَا بِهَذِهِ الدُّعَاءِ فِي كُلِّ اور جب ہمیں ہر نماز میں یہ دُعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو صَلَاةٍ فَمَا أَمَرَنَا رَبُّنَا إِلَّا لِيُسْتَجَابَ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم محض اس لئے دیا ہے کہ دُعَاؤُنَا وَنُعْطَى مَا أُعْطِيَ مِنَ الْإِنْعَامَاتِ ہماری دُعا قبول کی جائے اور ہمیں بھی وہی انعامات دیئے لِلْمُرْسَلِينَ، وَقَدْ بَشَرَنَا عَزَّ اسْمُهُ بِعَطَاءِ جائیں جو انعامات رسولوں کو عطا کئے گئے تھے اور اللہ عزائمہ إِنْعَامَاتٍ أَنْعَمَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ وَالرُّسُلِ نے ہمیں ان انعامات کے دیئے جانے کی بشارت دی ہے جو مِنْ قَبْلِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ وَارِثِينَ اُس نے ہم سے پہلے انبیاء اور رسولوں کو دیئے تھے اور ہمیں فَكَيْفَ نَكْفُرُ بِهَذِهِ الْإِنْعَامَاتِ ان کا وارث ٹھہرایا ہے۔ پس ہم کس طرح ان انعاما انعامات کا انکار وَتَكُونُ كَقَوْمٍ عَمِينَ وَكَيْفَ يُمْكِنُ أَنْ کریں اور اندھے لوگوں کی طرح ہو جائیں۔ اور یہ کیسے (الواقعة : ۴۱،۴۰) ترجمہ (اصحاب الیمین ) یہ گروہ شروع میں ایمان لانے والے لوگوں میں سے بھی بکثرت ہوگا اور آخر میں ایمان لانے والے لوگوں میں سے بھی بکثرت ہوگا۔