تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 257
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۷ انعام پایا اور دائمی دُعا اور تضرع اور اعمال صالحہ سے معرفت تامہ کو پہنچے۔ سورة الفاتحة الحکم جلد ۵ نمبر ۳۴ مؤرخہ ۱۷ استمبر ۱۹۰۱ ء صفحه ۱) ساتویں صداقت جو سورہ فاتحہ میں درج ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم کو وہ راستہ دکھلا اور اُس راہ پر ہم کو ثابت اور قائم کر کہ جو سیدھا ہے جس میں کسی نوع کی کبھی نہیں۔ اس صداقت کی تفصیل یہ ہے کہ انسان کی حقیقی دعا یہی ہے کہ وہ خدا تک پہنچنے کا سیدھا راستہ طلب کرے کیونکہ ہر یک مطلوب کے حاصل کرنے کے لئے طبعی قاعدہ یہ ہے کہ ان وسائل کو حاصل کیا جائے جن کے ذریعہ سے وہ مطلب ملتا ہے اور خدا نے ہر یک امر کی تحصیل کے لئے یہی قانون قدرت ٹھہرا رکھا ہے کہ جو اس کے حصول کے وسائل ہیں وہ حاصل کئے جائیں اور جن راہوں پر چلنے سے وہ مطلب مل سکتا ہے وہ راہیں اختیار کی جائیں اور جب انسان صراط مستقیم پر ٹھیک ٹھیک قدم مارے اور جو حصول مطلب کی راہیں ہیں ان پر چلنا اختیار کرے تو پھر مطلب خود بخود حاصل ہو جاتا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ان راہوں کے چھوڑ دینے سے جو کسی مطلب کے حصول کے لئے بطور وسائل کے ہیں یونہی مطلب حاصل ہو جائے بلکہ قدیم سے یہی قانون قدرت بندھا ہوا چلا آتا ہے کہ ہر ایک مقصد کے حصول کے لئے ایک مقرری طریقہ ہے جب تک انسان اس طریقہ مقررہ پر قدم نہیں مارتا تب تک وہ امر اس کو حاصل نہیں ہوتا۔ پس وہ شے جس کو محنت اور کوشش اور دُعا اور تشریع سے حاصل کرنا چاہئے صراط مستقیم ہے۔ جو شخص صراط مستقیم کی طلب میں کوشش نہیں کرتا اور نہ اس کی کچھ پرواہ رکھتا ہے وہ خدا کے نزدیک ایک کجر و آدمی ہے اور اگر وہ خدا سے بہشت اور عالم ثانی کی راحتوں کا طالب ہو تو حکمت الہی اسے یہی جواب دیتی ہے کہ اے نادان اول صراط مستقیم کو طلب کر پھر یہ سب کچھ تجھے آسانی سے مل جائے گا۔ سو سب دعاؤں سے مقدم دُعا جس کی طالب حق کو اشد ضرورت ہے طلب صراط مستقیم ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ہمارے مخالفین اس صداقت پر قدم مارنے سے بھی محروم ہیں۔ عیسائی لوگ تو اپنی ہر دعا میں روٹی ہی مانگا کرتے ہیں۔ اور اگر کھا پی کر اور پیٹ بھر کر بھی گرجا میں آویں پھر بھی جھوٹ موٹ اپنے تئیں بھو کے ظاہر کر کے روٹی مانگتے رہتے ہیں گویا ان کا مطلوب اعظم روٹی ہی ہے بس ۔ آریہ سماج والے اور دوسرے ان کے بت پرست بھائی اپنی دعاؤں میں جنم مرن سے بچنے کے لئے یعنی اواگون سے جو اُن کے زعم باطل میں ٹھیک اور درست ہے طرح طرح کے اشلوک پڑھا کرتے ہیں اور صراط مستقیم کو خدا سے نہیں مانگتے ۔ علاوہ اس کے اللہ تعالیٰ نے تو اس جگہ جمع کا لفظ بیان کر کے اس بات کی