تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 233

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۳ سورة الفاتحة أُوتُوا مِنْ قَبْلِهِمْ كُلَّ نِعْمَةِ الْهِدَايَةِ عَلَى ہدایتیں طلب کریں تا کہ ہم پر بھی وہ تمام امور طَرِيقِ الْإِصَالَةِ فَانْظُرْ كَيْفَ مَنَ اللهُ منکشف کر دے جو ان (نبیوں) پر منکشف کئے عَلَيْنَا وَ أَمَرَنَا فِي أُمِّ الْكِتَابِ لِنَطْلُبَ فِيهِ تھے ۔ لیکن یہ سب کچھ متابعت اور ظلیت کے طور پر هِدَايَاتِ الْأَنْبِيَاءِ كُلَّهَا ، لِيَكْشِفَ عَلَيْنَا كُلَّ اور استعدادوں اور ہمتوں کے اندازہ کے مطابق مَا كَشَفَ عَلَيْهِمْ، وَلكِنْ بِالاتِّبَاعِ وَالظُّليَّةِ ہے۔ پس اگر ہم ( سچ سچ ) ہدایت کے خواہشمند ہیں وَ عَلَى قَدَرِ ظُرُوفِ الْإِسْتِعْدَادَاتِ وَ الْهِمَمِ تو پھر ہم کس طرح اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کورڈ کریں فَكَيْفَ تَرُدُّ نِعْمَةَ اللهِ الَّتِي أُعِدَّتْ لَنَا إِنْ كُنَّا جو ہمارے لئے تیار کی گئی ہے اور ہم اللہ اَصْدَقُ طُلَبَاءَ الْهِدَايَةِ وَ كَيْفَ تُنْكِرُهَا بَعْدَمَا الصَّادِقِينَ (خدا) کی طرف سے اطلاع دیئے جانے کے بعد کس طرح اس نعمت کا انکار کریں ۔ أُخْبِرْنَا عَنْ أَصْدَقِ الصَّادِقِينَ ( حمامة البشری، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۹۹) ( ترجمه از مرتب ) إِنَّ تَعْلِيمَ كِتَابِ اللهِ الْأَحْكَمِ وَ رَسُولِ قرآن شریف کی تعلیم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مُنْقَسِمًا عَلی کی ہدایت تین قسم پر منقسم تھی ۔ پہلی یہ کہ وحشیوں کو ثَلَاثَةِ أَقْسَامِ الْأَوَّلُ أَنْ يَجْعَلَ الْوُحُوشَ أَنَاسًا، انسان بنایا جائے اور انسانی آداب اور حواس اُن وَ يُعَلِّمَهُمْ أَدَابَ الْإِنْسَانِيَّةِ وَيَهَبَ لَهُمْ کو عطا کئے جائیں اور دوسری یہ کہ انسانیت سے مَدَارِكَ وَحَوَاشًا وَالثَّانِي أَنْ يَجْعَلَهُمْ بَعْدَ ترقی دے کر اخلاق کاملہ کے درجے تک اُن کو الْإِنْسَانِيَّةِ أَكْمَلَ النَّاسِ فِي مَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ پہنچایا جائے اور تیسری یہ کہ اخلاق کے مقام سے وَالثَّالِثُ أَنْ يَرْفَعَهُمْ مِّنْ مَّقَامِ الْأَخْلَاقِ إِلى اُن کو اُٹھا کر محبت الہی کے مرتبہ تک پہنچایا جائے ذُرَى مَرْتَبَةِ حُبِّ الْخَلاقِ، وَيُوْصِلَ إلى مَنْزِلِ اور یہ کہ قرب اور رضا اور معیت اور فنا (اور الْقُرْبِ وَالرِّضَاءِ وَالْمَعِيَّةِ وَالْفَنَاءِ گدازش) اور محویت کے مقام اُن کو عطا ہوں وَالثَّوْبَانِ وَالْمَحْوِيَّةِ، أَعْنِي إِلَى مَقَامٍ يَنْعَدِمُ یعنی وہ مقام جس میں وجود اور اختیار کا نشان باقی فِيهِ أَثَرُ الْوُجُودِ وَ الْإِخْتِيَارِ ، وَيَبْقَى اللهُ وَحْدَةً نہیں رہتا اور خدا اکیلا باقی رہ جاتا ہے جیسا کہ وہ كَمَا هُوَ يَبْقَى بَعْدَ فَنَاءِ هَذَا الْعَالَمِ بِذَاتِهِ اس عالم کے فنا کے بعد اپنی ذات قہار کے ساتھ الْقَهَّارِ باقی رہے گا۔