تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 213

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام له الله سورة الفاتحة إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ۔ اے خدا! تو جو چار صفتوں کا مالک ہے تیری پرستش کرتے ہیں۔ انسان کو چاہئے کہ اللہ کو چار صفتوں سے متصف مان کر صرف اقرار تک محدود نہ رکھے بلکہ عملی طور سے اس بات کو ثابت کرے کہ وہ واقعی اللہ کو اپنا رب مانتا ہے۔ اس کی ربوبیت کو اپنے عملوں سے ثابت کرے۔ دیکھو جو خدا کو خدا نہ مانے وہ سب کچھ کرے گا۔ چوری زنا بھی کرے گا جب تک عملی رنگ نہ ہو تو نہ مومن کہلا سکتا ہے نہ وہ فیض پاتا ہے جو اگلے مقربوں اور راستبازوں پر ہوا۔ ایمان خدا کا ایک فضل ہے جب آتا۔ آتا ہے تو وہ شخص عملی طور پر فاسقانہ کام نہیں کرتا۔ دراصل زبانی حساب انسان کو نجات نہیں دے سکتا۔ البدر جلد ۲ نمبر ۳۶ مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۶) تدبیر اور دُعا دونوں (کو ) باہم ملا دینا اسلام ہے اسی واسطے میں نے کہا ہے کہ گناہ اور غفلت سے بچنے کے لئے اس قدر تد بیر کرے جو تد بیر کا حق ہے اور اس قدر دُعا کرے جو دُعا کا حق ہے۔ اسی واسطے قرآن شریف کی پہلی ہی سورہ فاتحہ میں ان دونوں باتوں کو مد نظر رکھ کر فرمایا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ - إِيَّاكَ نَعْبُدُ اسی اصل تدبیر کو بتاتا ہے اور مقدم اسی کو کیا ہے کہ پہلے انسان رعایت اسباب اور تدبیر کا حق ادا کرے مگر اس کے ساتھ ہی دُعا کے پہلو کو چھوڑ نہ دے بلکہ تدبیر کے ساتھ ہی اس کو مد نظر رکھے۔ مومن جب إِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں تو معاً اس کے دل میں گزرتا ہے کہ میں کیا چیز ہوں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں جب تک اُس کا فضل اور کرم نہ ہو۔اس لئے وہ معاً کہتا ہے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔ یہ ایک نازک مسئلہ ہے جس کو بجز اسلام کے اور کسی مذہب الحکم جلد ۸ نمبر ۵ مؤرخه ۱۰ رفروری ۱۹۰۴ء صفحه ۲) نے نہیں سمجھا۔ اس سورۃ میں جس کا نام خاتم الكتاب اور ام الکتاب بھی ہے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ انسانی زندگی کا کیا مقصد ہے اور اس کے حصول کی کیا راہ ہے؟ إِيَّاكَ نَعْبُدُ گویا انسانی فطرت کا اصل تقاضا اور منشاء ہے اور وہ إِيَّاكَ نَسْتَعِین کے بغیر پورا نہیں ہوتا ہے لیکن إِيَّاكَ نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پر مقدم کر کے یہ بتایا ہے کہ پہلے ضروری ہے کہ جہاں تک انسان کی اپنی طاقت، ہمت اور سمجھ میں ہو خدا تعالیٰ کی رضامندی کی راہوں کے اختیار کرنے میں سعی اور مجاہدہ کرے اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں سے پورا کام لے اور اس کے بعد پھر خدا تعالیٰ سے اس کی تکمیل اور نتیجہ خیز ہونے کے لئے دُعا کرے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۳۶ مورخه ۲۴ را کتوبر ۱۹۰۴ صفحه ۲ - الحکم جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۵) إِيَّاكَ نَعْبُدُ میں اگر چہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ کو إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پر تقدم ہے لیکن پھر بھی اگر غور کیا جاوے تو