تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 205

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۵ سورة الفاتحة میں لاتا ہے اور اس طرح پر ان کو آفات سے بچاتا ہے۔ یہ صفت بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے (۴) چوتھی صفت ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے یہ بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا دیتا ہے۔ یہ چاروں صفتیں ہیں جو اُس کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں یعنی اُس کے پوشیدہ وجود کا ان صفات کے ذریعہ سے اس دنیا میں پتہ لگتا ہے اور یہ معرفت عالم آخرت میں دو چند ہو جائے گی گویا بجائے چار کے آٹھ فرشتے ہوجائیں گے۔ چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۲۷۹،۲۷۸) اگر کوئی کہے کہ دنیا ہمیشہ رہے گی اور یہاں ہی دوزخ بہشت ہو گا ہم نہیں مان سکتے ۔ اس کی صفت لملك يَوْمِ الدین کے خلاف ہے اور اسکے خلاف جاگھیرتا ہے فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ - (الشورى : ٨) الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مؤرخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۶) جماعت احمد یہ میں داخل ہونے والے کا فرض جو شخص عام مسلمانوں میں سے ہماری جماعت میں داخل ہو جائے اُس کا پہلا فرض یہی ہے کہ جیسا کہ وہ قرآن شریف کی سورۃ فاتحہ میں پنج وقت اپنی نماز میں یہ اقرار کرتا ہے کہ خدا رب العالمین ہے اور خدارحمن ہے اور خدا رحیم ہے اور خدا ٹھیک ٹھیک انصاف کرنے والا ہے۔ یہی چاروں صفتیں اپنے اندر بھی قائم کرے۔ ورنہ وہ اس دُعا میں کہ اسی سورۃ میں پنج وقت اپنی نماز میں کہتا ہے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ یعنی اے ان چار صفتوں والے اللہ ! میں تیرا ہی پرستار ہوں اور تو ہی مجھے پسند آیا ہے سراسر جھوٹا ہے۔ کیونکہ خدا کی ربوبیت یعنی نوع انسان اور نیز غیر انسان کا مربی بنا اور ادنیٰ سے ادنی جانور کو بھی اپنی مربیا نہ سیرت سے بے بہرہ نہ رکھنا یہ ایک ایسا امر ہے کہ اگر ایک خدا کی عبادت کا دعویٰ کرنے والا خدا کی اس صفت کو محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کو پسند کرتا ہے یہاں تک کہ کمال محبت سے اس الہی سیرت کا پرستار بن جاتا ہے تو ضروری ہوتا ہے کہ وہ آپ بھی اس صفت اور سیرت کو اپنے اندر حاصل کرلے تا اپنے محب کے رنگ میں آ جائے ۔ ایسا ہی خدا کی رحمانیت یعنی بغیر عوض کسی خدمت کے مخلوق پر رحم کرنا یہ بھی ایک ایسا امر ہے کہ سچا عا بد جس کو یہ دعوی ہے کہ میں خدا کے نقش قدم پر چلتا ہوں ضرور یہ خلق بھی اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ ایسا ہی خدا کی رحیمیت یعنی کسی کے نیک کام میں اس کام کی تکمیل کے لئے مدد کرنا۔ یہ بھی ایک ایسا امر ہے کہ سچا عابد جو خدائی صفات کا عاشق ہے اس صفت کو اپنے اندر حاصل کرتا ہے ۔ ایسا ہی خدا کا انصاف جس نے ہر ایک حکم عدالت کے تقاضا سے دیا ہے نہ نفس کے جوش سے۔ یہ بھی ایک ایسی صفت ہے کہ سچا عابد کہ جو تمام الہی صفات اپنے اندر لینا چاہتا ہے اس صفت کو چھوڑ نہیں سکتا اور راستباز کی خود بھاری نشانی یہی ہے کہ