تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 192

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۲ سورة الفاتحة اور یہ ظہور اسلام کے ساتھ ہوا۔ اسلام گویا خدا کی گود میں بچہ ہے۔ اس کا سارا کام کاج سنوار نے والا اور اس کے سارے لوازم بہم پہنچانے والا خود خدا ہے۔ کسی مخلوق کا بار احسان اس کی گردن پر نہیں۔ اسی طرح رحیم جو محنتوں کو ضائع نہ کرے۔ اس کے خلاف یہ ہے کہ محنت کرتا رہے اور نا کام رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رحیمیت کا اظہار دیکھو کیسے واضح طور پر ہوا۔ کوئی ایسی لڑائی نہیں جس میں فتح نہ پائی ہو۔ تھوڑا کام کر کے بہت اجر پایا ہے۔ بجلی کے کوندنے کی طرح فتوحات چمکیں ۔ فتوحات الشام، فتوحات المصر ہی دیکھو۔ صفحہ تاریخ میں کوئی ایسا انسان نہیں جس نے صحیح معنوں میں کامیابی پائی ہو جیسے کامیابیاں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملیں ۔ صحابہؓ نے دنیا میں کامیابی حاصل کی پھر ملِكِ يَوْمِ الدِّين جزا وسزا کا مالک ، اچھے کام کرنے والوں کو جزا دی جاوے۔ اگر چہ کامل طور پر یہ آخرت کے لیے ہے اور سب قو میں جزا وسزا کو آخرت ہی پر ڈالتی ہیں ، مگر خدا نے اس کا نمونہ اسلام کے لیے اس دنیا میں رکھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ جو دو پہر کی دھوپ میں گھر بار مال و متاع چھوڑ کر اُٹھ کھڑا ہوا تھا اور جس نے ساری جائداد کو دیکھ کر کہہ دیا کہ بر باد شد، بر باد باشد ۔ سب سے انقطاع کر کے ساتھ ہی ہو لیا تھا۔ اُس نے یہ مزہ پایا کہ آپ کے بعد سب سے پہلا خلیفہ بلا فصل یہی ہوا۔ حضرت عمر جو صدق اخلاص سے بھر گئے تھے ، اُنھوں نے نے یہ مزہ پایا کہ اُن کے بعد خلیفہ ثانی ہوئے۔ غرض اسی طرح پر ہر ایک صحابی نے پوری عزت پائی ۔ قیصر و کسری کے اموال اور شاہزادیاں اُن کے ہاتھ آئیں ۔ لکھا ہے کہ ایک صحابی کسری کے دربار میں گیا۔ ملا زمان کسری نے سونے چاندی کی کرسیاں بچھوادیں اور اپنی شان و شوکت دکھائی ۔ اُس نے کہا کہ ہم اس مال کے ساتھ فریفتہ نہیں ہوئے ۔ ہم کو تو وعدہ دیا گیا ہے کہ کسری کے کڑے بھی ہمارے ہاتھ آجائیں گے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کڑے ایک صحابی کو پہنا دیئے تا کہ وہ پیشگوئی پوری ہو۔ اسلام کا جادہ اعتدال - مذہب اسلام چونکہ اعتدال پر واقع ہوا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تعلیم یہی دی ہے اور مغضوب اور ضالین سے بچنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ ایک سچا مسلمان نہ مغضوب ہو سکتا ہے نہ ضالین کے زمرہ میں شامل ہو سکتا ہے۔ مغضوب وہ قوم ہے جس پر خدا تعالیٰ کا غضب بھڑکا۔ چونکہ وہ خود غضب کرنے والے تھے، اس لیے خدا کے غضب کو کھینچ لائے اور وہ یہودی ہیں ۔ اور ضال سے مراد عیسائی ہیں۔