تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 167

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۷ سورة الفاتحة لگیں ۔ غرض خدائے تعالیٰ کی ربوبیت تامہ اور قدرت کاملہ کہ جو ذرہ ذرہ کے وجود اور بقا کے لئے ہر دم اور ہر لحظہ آبپاشی کر رہی ہے اور جس کے عمیق در عمیق تصرفات تعداد اور شمار سے باہر ہیں اُس ربوبیت تامہ سے برہمو سماج والے منکر ہیں ۔ ماسوا اس کے برہمو سماج والے ربوبیت الہیہ کو روحانی طور پر بھی تام اور کامل نہیں سمجھتے اور خدائے تعالیٰ کو اس قدرت سے عاجز اور درماندہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنی ربوبیت تامہ کے تقاضا سے اپنا روشن اور لاریب فیہ کلام انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل کرتا۔ اسی طرح وہ خدائے تعالیٰ کی رحمانیت پر بھی کامل طور پر ایمان نہیں لاتے۔ کیونکہ کامل رحمانیت یہ ہے کہ جس طرح خدائے تعالیٰ نے ابدان کی تکمیل اور تربیت کے لئے تمام اسباب اپنے خاص دستِ قدرت سے ظاہر فرمائے ہیں اور اس چند روزہ جسمانی آسائش کے لئے سورج اور چاند اور ہوا اور بادل وغیرہ صد ہا چیزیں اپنے ہاتھ سے بنادی ہیں اسی طرح اس نے روحانی تکمیل اور تربیت کے لئے اور اُس عالم کی آسائش کے لئے جس کی شقاوت اور سعادت ابدی اور دائمی ہے روحانی نور یعنی اپنا پاک اور روشن کلام دنیا کے انجام کے لئے بھیجا ہو۔ اور جس علم کی مستعد روحوں کو ضرورت ہے وہ سب علم آپ عطا فرمایا ہو ۔ اور جن شکوک اور شبہات میں اُن کی ہلاکت ہے ان سب شکوک سے آپ نجات بخشی ہولیکن اس کامل رحمانیت کو برہمو سماج والے تسلیم نہیں کرتے ۔ اور ان کے زعم میں گو خدا نے انسان کے شکم پر کرنے کے لئے ہر ایک طرح کی مدد کی اور کوئی دقیقہ تائید کا اٹھا نہ رکھا مگر وہ مددروحانی تربیت میں نہ کر سکا۔ گویا خدا نے روحانی تربیت کے بارے میں جو اصلی اور حقیقی تربیت تھی دانستہ دریغ کیا اور اُس کے لئے ایسے زبردست اور قومی اور خاص اسباب پیدا نہ کئے جیسے اُس نے بدنی تربیت کے لئے پیدا کئے بلکہ انسان کو صرف اُسی کی عقل ناقص کے ہاتھ میں چھوڑ دیا اور کوئی ایسا کامل نورا اپنی طرف سے اُس کی عقل کی امداد کے لئے پیدا نہ کیا جس سے عقل کی پر غبار آنکھ روشن ہو کر سیدھا راستہ اختیار کرتی اور سہو اور غلطی کے مہلک خطرات سے بچ جاتی ۔ اسی طرح برہمو سماج والے خدائے تعالیٰ کی رحیمیت پر بھی کامل طور پر ایمان نہیں رکھتے۔ کیونکہ کامل رحیمیت یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ مستعد روحوں کو اُن کے فطرتی جوشوں کے مطابق اور اُن کے پر جوش اخلاص کے اندازہ پر اور اُن کے صدق سے بھری ہوئی کوششوں کے مقدار پر معارف صافیہ غیر محجوبہ سے ان کو ملتبب کرے اور جس قدر وہ اپنے دلوں کو کھولیں اُسی قدر اُن کے لئے آسمانی دروازے کھولے جائیں۔ اور جس قدر ان کی پیاس بڑھتی جائے اُسی قدر ان کو پانی بھی دیا جائے یہاں تک کہ وہ حق الیقین کے شربت خوشگوار