تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 158

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۸ سورة الفاتحة کے اور کسی چیز کے لئے حاصل نہیں ۔ غرض عالم بجميع اجزائہ مخلوق اور خدا کی پیدائش ہے اور کوئی چیز اجزائے عالم میں سے ایسی نہیں کہ جو خدا کی پیدائش نہ ہو۔ اور خدائے تعالیٰ اپنی ربوبیت تامہ کے ساتھ عالم کے ذرہ ذرہ پر متصرف اور حکمران ہے اور اس کی ربوبیت ہر وقت کام میں لگی ہوئی ہے۔ یہ نہیں کہ خدائے تعالیٰ دنیا کو بنا کر اس کے انتظام سے الگ ہو بیٹھا ہے اور اسے نیچر کے قاعدہ کے ایسا سپر د کیا ہے کہ خود کسی کام میں دخل بھی نہیں دیتا۔ اور جیسے کوئی کل بعد بنائے جانے کے پھر بنانے والے سے بے علاقہ ہو جاتی ہے ایسا ہی مصنوعات صانع حقیقی سے بے علاقہ ہیں بلکہ وہ رب العالمین اپنی ربوبیت تامہ کی آب پاشی ہر وقت برابر تمام عالم پر کر رہا ہے اور اس کی ربوبیت کا مینہ بالاتصال تمام عالم پر نازل ہو رہا ہے اور کوئی ایسا وقت نہیں کہ اس کے رشح فیض سے خالی ہو بلکہ عالم کے بنانے کے بعد بھی اس مبدء فیوض کی فی الحقیقت بلا ایک ذرا تفاوت کے ایسی ہی حاجت ہے کہ گویا ابھی تک اس نے کچھ بھی نہیں بنایا اور جیسا دنیا اپنے وجود اور نمود کے لئے اس کی ربوبیت کی محتاج تھی ایسا ہی اپنے بقا اور قیام کے لئے اس کی ربوبیت کی حاجتمند ہے۔ وہی ہے جو ہر دم دنیا کو سنبھالے ہوئی ہے اور دنیا کا ہر ذرہ اسی سے تروتازہ ہے اور وہ اپنی مرضی اور ارادہ کے موافق ہر چیز کی ربوبیت کر رہا ہے یہ نہیں کہ بلا ارادہ کسی شے کے ربوبیت کا موجب ہو۔ غرض آیات قرآنی کی رو سے جن کا خلاصہ ہم بیان کر رہے ہیں اس صداقت کا یہ منشا ہے کہ ہر ایک چیز کہ جو عالم میں پائی پائی جاتی ہے وہ مخلوق ہے۔ اور اپنے تمام کمالات اور اپنے تمام حالات اور اپنے تمام اوقات میں خدائے تعالیٰ کی ربوبیت کی محتاج ہے اور کوئی روحانی یا جسمانی ایسا کمال نہیں ہے جس کو کوئی مخلوق خود بخود اور بغیر ارادہ خاص اس متصرف مطلق کے حاصل کر سکتا ہو۔ اور نیز حسب توضیح اسی کلام پاک کے اس صداقت اور ایسا ہی دوسری صداقتوں میں یہ معنے بھی ملحوظ ہیں کہ رب العالمین وغیرہ صفتیں جو خدائے تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں یہ اسی کی ذات واحد لاشریک سے خاص ہیں اور کوئی دوسرا ان میں شریک نہیں ۔ جیسا کہ اس سورۃ کے پہلے فقرہ میں یعنی الحَمدُ لِلہ میں یہ بیان ہو چکا ہے کہ تمام محامد خدا ہی سے خاص ہیں ۔ - دوسری صداقت رحمن ہے کہ جو بعد رب العالمین بیان فرمایا گیا۔ اور رحمن کے معنے جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں یہ ہیں کہ جس قدر جاندار ہیں خواہ ذی شعور اور خواہ غیر ذی شعور اور خواہ نیک اور خواہ بد ، ان سب کے قیام اور بقاء وجود اور بقائے نوع کے لئے اور ان کی تکمیل کے لئے خدائے تعالیٰ نے اپنی رحمت عامہ کے رو سے ہر یک قسم کے اسباب مطلوبہ میسر کر دیئے ہیں اور ہمیشہ میسر کرتا رہتا ہے اور یہ عطیہ محض ہے