تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 143

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۳ سورة الفاتحة اخْتِرَامُ الْأَحِبَّةِ مَوْتَ أَنْفُسِهِمْ جانے پر کانپ اُٹھتے ہیں۔ دوستوں کی موت سے اپنی موتوں کو فَيَتُوبُونَ إِلَى اللهِ وَهُمْ من یاد کرتے ہیں۔ اپنے ہم عمر ساتھیوں پر مٹی ڈالنا انہیں خوف دلاتا الصَّالِحِينَ۔ فَلَعَلَّكَ فَهِمْتَ أَنَّ هَذَا ہے۔ پس وہ ان کے غم سے جلتے ہیں اور خود ہوشیار ہو جاتے الْفَيْضَانَ يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ عَلی ہیں ۔ دوستوں کی مفارقت انہیں اپنی موت ( کا نظارہ) شَرِيطَةِ الْعَمَلِ وَالتَّوَرُّعِ وَ السَّمَتِ دکھا دیتی ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور الصَّالِحَةِ وَالتَّقْوَى وَ الْإِيمَانِ وَلَا نیکو کار بن جاتے ہیں ۔ اب شاید تم سمجھ گئے ہو گے کہ اس فیضان وُجُودَ لَهُ إِلَّا بَعْدَ وُجُودِ الْعَقْلِ کا آسمان سے نازل ہونا عمل (صالح) پرہیز گاری، راست وَالْفَهْمِ وَبَعْدَ وُجُودِ كِتَابِ الله روی، پارسائی اور ایمان کے ساتھ مشروط ہے اس فیض کا وجود تَعَالَى وَحُدُودِهِ وَأَحْكَامِهِ وَكَذلِكَ عقل اور فہم کے وجود اور کتاب اللہ اور اس کی حدود اور احکام الْمَحْرُومُونَ مِنْ هَذِهِ النِّعْمَةِ لَا کے نازل ہونے کے بعد ممکن ہے۔ اسی طرح جو لوگ اس نعمت يَسْتَحِقُونَ عِتَابًا وَ مُؤَاخَذَةً مِنْ سے محروم ہیں وہ ان شرائط ( کے پورا ہونے ) سے قبل کسی عتاب قَبْلِ هَذِهِ الشَّرَائِطِ ۔ یا مواخذہ کے مستحق نہیں ٹھہرتے ۔ فَظَهَرَ أَنَّ الرَّحِيمِيَّةَ تَوْءَم لہذا ظاہر ہو گیا کہ رحیمیت کی صفت اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کی لكِتَابِ اللهِ وَتَعْلِيمِهِ وَتَفْهِيمِهِ فَلا تعلیم و تفہیم کی تو ام ہے۔ اور اس (کتاب اللہ کے نزول ) سے قبل يُؤْخَذُ أَحَدٌ قَبْلَهُ وَلَا يُدْرِكُ أَحَدًا کسی پر گرفت نہیں ہوتی اور نہ کسی پر اللہ تعالیٰ کا شدید غضب عَطَبُ الْقَهْرِ إِلَّا بَعْدَ ظُهُورِ هَذِهِ نازل ہوتا ہے جب تک یہ رحیمیت ظاہر نہ ہو۔ کسی بدکار انسان الرَّحِيمِيَّةِ وَلَا يُسْأَلُ فَاسِقٌ عَنْ سے اس کی بدکاری کے متعلق مؤاخذہ اس کے بعد ہی ہوگا۔ پس فِسْقِهِ إِلَّا بَعْدَهَا فَخُذْ هُذَا السر یہ بھید کی بات مجھ سے سمجھ لے اور یہ عیسائیوں کی زبر دست تردید مِنِي وَهُوَ رَدُّ عَلَى الْمُتَنَظِرِينَ فَإِنَّهُمْ ہے کیونکہ وہ تو آدم سے لے کر دنیا کے خاتمہ تک گناہ کی نیش زنی قَاتِلُونَ بِلَسْعِ الذَّنْبِ مِنْ أَدَمَ إِلَی کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر انسان گنہ گار ہے خواہ اُسے خدا تعالیٰ انْقِطَاعِ الدُّنْيَا وَيَقُولُونَ إِنَّ كُلَّ کی کتاب پہنچی ہو اور اُسے عقلِ سلیم عطا ہوئی ہو یا وہ معذوروں عَبْدٍ مُذْنِبٌ سَوَاءٌ عَلَيْهِ بَلَغَهُ میں سے ہو اور ان کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسیح علیہ السلام كِتَابٌ مِنَ اللهِ تَعَالَى وَأُعْطِيَ لَهُ ) کی صلیبی موت) پر ایمان لائے بغیر کسی کو نہیں بخشا اور ان کا یہ