تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 135

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الله سورة الفاتحة رحیمیت ہی ایک ایسی صفت ہے جس کے ذریعہ سے باقی تمام صفات پر یقین بڑھتا اور کمال تک پہنچتا ہے۔ وجہ یہ کہ جب ہم خدا تعالیٰ کی رحیمیت کے ذریعہ سے اپنی دعاؤں اور تضرعات پر الہی فیضوں کو پاتے ہیں اور ہر ایک قسم کی مشکلات حل ہوتی ہیں تو ہمارا ایمان خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی قدرت اور رحمت اور دوسری صفات کی نسبت بھی حق الیقین تک پہنچتا ہے اور ہمیں چشم دید ماجرا کی طرح سمجھ آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ در حقیقت حمد اور شکر کا مستحق ہے اور در حقیقت اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور دوسری صفات سب درست اور صحیح ہیں لیکن بغیر رحیمیت کے ثبوت کے دوسری صفات بھی مشتبہ رہتی ہیں ۔ لصد ایام اصح - روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۲ تا ۲۴۴) واضح رہے کہ اللہ جل شانہ نے سورہ فاتحہ میں اَلْحَمْدُ لِلہ کے بعد ان صفات اربعہ کو چار سر چشمہ فیض قرار دے کر اس سورۃ کے مابعد کی آیتوں میں بطور لف و نشر مرتب ہر ایک چشمہ سے فیض مانگنے کی طرف - اشارہ فرمایا ہے۔ چنانچہ ظاہر ہے کہ فقرہ الْحَمْدُ لِلهِ سے فقرہ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ تک پانچ جدا جدا امر ہیں ۔ (1) اَلْحَمْدُ لِلَّهِ (۲) دوسرے رَبُّ الْعَلَمِينَ (۳) تیسرے الرَّحْمَنُ (۴) چوتھے الرَّحِيمُ (۵) مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ اور مابعد کے پانچ فقرے ان پانچوں کے لحاظ سے بصورت لف و نشر مرتب ان کے مقابل پر واقع ہیں ۔ جیسا کہ فقرہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ فقرہ الْحَمْدُ لِلهِ کے مقابل پر ہے جس سے یہ اشارہ ہے کہ عبادت کے لائق وہی ذات کامل الصفات ہے جس کا نام اللہ ہے اور فقرہ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ فقرہ رَبُّ الْعَلَمِينَ کے مقابل پر واقع ہے جس سے یہ اشارہ مقصود ہے کہ سرچشمہ ، ربوبیت سے جو ایک نہایت عام سرچشمہ ہے ہم مدد طلب کرتے ہیں کیونکہ بغیر خدا تعالیٰ کے فیض ربوبیت کے ظاہری یا باطنی طور پر نشو نما پانا یا کوئی پاک تبدیلی حاصل کرنا اور روحانی پیدائش سے حصہ لینا امر محال ہے۔ اور فقرہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ فقره الرحمن کے مقابل پر واقع ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا ورد کرنے والا الرحمن کے چشمہ سے فیض طلب کرتا ہے۔ کیونکہ ہدایت پانا کسی کا حق نہیں ہے بلکہ محض رحمانیت الہی سے یہ دولت حاصل ہوتی ہے۔ اور فقره صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ فقرہ الرَّحِيمُ کے مقابل پر واقع ہے۔ اور صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کا ورد کرنے والا چشمہ الرَّحِیم سے فیض طلب کرتا ہے کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اے دعاؤں کو رحم خاص سے قبول کرنے والے ! ان رسولوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی راہ ہمیں دکھلا جنہوں نے دعا اور مجاہدات میں مصروف ہو کر تجھ سے انواع اقسام کے معارف اور حقائق اور کشوف اور الہامات کا ا ات کا انعام پایا اور دائمی دعا اور