تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 127
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۷ سورة الفاتحة الرُّبُوْبِيَّةِ فَهُذِهِ الصَّفَةُ تَجْعَلُ الْأَسْبَابَ کو کامل قولی دینا اور ایسے طور پر پیدا کرنا ہے جو اس مُوَافِقَةً لِلْمَرْحُومِ وَ أَثَرُ الرُّبُوبِيَّةِ کے لائق حال اور مناسب ہے۔اسی صفت کا اثر یہ ہے تَسْوِيَةُ الْوُجُودِ وَتَخْلِيقُهُ كَمَا يَلِيقُ وَ کہ یہ ہر وجود کو اس کے عیوب کو چھپا دینے والا لباس يَنْبَغِي وَأَثَرُ هَذِهِ الصَّفَةِ أَنَّهَا تُكْسِى ذَلِك پہناتی ہے ۔ اُسے زینت عطا کرتی ہے۔ اس کی الْوُجُودَ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْأَتَهُ وَتَهَبُ لَهُ آنکھوں میں سُرمہ لگاتی ہے۔ اس کے چہرہ کو دھوتی زِينَتَهُ وَ تَكْحُلُ عَيْنَهُ وَتَغْسِلُ وَجْهَهُ وَ ہے ۔ اس کو سواری کے لئے گھوڑا دیتی ہے ۔ اور اس کو تُعْطِي لَهُ فَرَسًا لِلرُّكُوبِ وَتُرِيهِ طُرُقَ شاہسواروں کے طریق بتاتی ہے اور صفت ( رحمانیت ) الْفَارِسِينَ وَ مَرْتَبَعُهَا بَعْدَ الرُّبُوبِيَّةِ وَ کا درجہ ربوبیت کے بعد ہے وہ ہر چیز کو اس کے وجود کا هِيَ تُعْطِي كُلَّ شَيْءٍ مَطْلُوبَ وُجُودِهِ وَ مطلوب عطا کر کے اسے توفیق یافتہ لوگوں میں سے بنا تَجْعَلُهُ مِنَ الْمُوَفِّقِينَ دیتی ہے۔ وَرَابِعُهَا بَحْرُ اسْمِ الرَّحِيمِ وَ تَغْتَرِفُ ان میں سے چوتھا سمند رصفت الرَّحِیمِ ہے اور اس مِنْهُ جُمْلَةُ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ سے صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا جملہ مستفیض ہوتا ہے عَلَيْهِمْ لِيَكُونَ الْعَبْدُ مِنَ الْمُنْعَمِينَ تا بنده خاص انعام یافتہ لوگوں میں شامل ہو جائے ۔ الْمَخْصُوصِينَ فَإِنَّ الرَّحِيمِيَّةَ صِفَةٌ کیونکہ رحیمیت ایسی صفت ہے جو ان انعامات خاصہ مُدْنِيَةٌ إِلَى الْإِنْعَامَاتِ الْخَاصَّةِ الَّتِي لا تک پہنچا دیتی ہے جن میں فرمانبردار لوگوں کا کوئی شَرِيكَ فِيهَا لِلْمُطِيعِيْنَ وَإِنْ كَانَ شریک نہیں ہوتا ۔ گو ( اللہ تعالیٰ کا ) عام انعام انسانوں الْإِنْعَامُ الْعَامُ مُحِيطَةً بِكُلِّ شَيْءٍ مِنَ سے لے کر سانپوں ، اثر دہاؤں تک کو اپنے احاطہ میں النَّاسِ إِلَى الْأَفَاعِي وَالتِّينِ لئے ہوئے ہے۔ وَخَامِسُهَا بَحْرُ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ان میں سے پانچواں سمندر ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ( کی وَتَغْتَرِفُ مِنْهُ جُمْلَةُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ صفت) ہے۔ اور اس سے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَإِنَّ غَضَبَ اللهِ الضَّالِّينَ کا جملہ مستفیض ہوتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے وَتَرْكَهُ فِي الضَّلَالَةِ لَا تَظْهَرُ حَقِيقَتُهُ عَلَى غضب اور اس کے (انسان کو ) ضلالت اور گمراہی میں النَّاسِ عَلَى وَجْهِ الْكَامِلِ إِلَّا فِي يَوْمِ چھوڑ دینے کی حقیقت لوگوں پر مکمل طور پر جزا اور سزا کے