تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 125
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۵ سورة الفاتحة وَمُلِكَ يَوْمِ الدِّينِ فَجَعَلَ اللهُ كَمِثْلِهَا ان پانچ کو ان پانچ کے مقابل پر رکھا ہے۔ اور ہر فیض خَمْسَةً مِنَ الْمُغْتَرِفَاتِ مِمَّا ذَكَرَ مِنْ بَعْدُ حاصل کرنے والی آیت ایک ایسی صفت سے مستفیض ہوتی وَ قَابَلَ الْخَمْسَةَ بِالْخَمْسَةِ وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنَ ہے جو اس کے مشابہہ اور اس کے مقابل ہے۔ اور اس سے الْمُغْتَرِفَاتِ يَشْرَبُ مِنْ مَّاءِ صِفَةٍ وہ مطالب اخذ کرتی ہے جن پر وہ صفت حاوی ہے اور جو تُشَابِهُ وَ تُنَاوِحُهُ وَ تَأْخُذُ مِمَّا احْتَوَتْ عَلى طالبانِ الہی کو بے حد پسندیدہ ہیں ۔ مثلاً ان میں سے سب مَعَانٍ تَسُرُّ الْعَارِفِينَ مَثَلًا أَوَّلُهَا بَحْرُ سے پہلا سمندر اللہ (اسم ذات ) کا سمندر ہے۔ اس کے اسمِ اللهِ تَعَالَى وَتَخْتَرِفُ مِنْهُ مقابل إِيَّاكَ نَعْبُدُ کا فقرہ ہے جو مقابل میں رکھی جانے جُمْلَةُ إِيَّاكَ نَعْبُدُ الَّتِي حَذَتْهُ وَصَارَتْ والی اشیاء کی طرح ہو کر فیض حاصل کرتا ہے۔ اور عبادت کی كَالْمُحَادِينَ وَحَقِيقَةُ التَّعَبدِ تَعْظِيمُ حقیقت ہے۔ پوری انکساری سے معبود کی تعظیم کرنا اور اس الْمَعْبُودِ بِالتَّذَلَّلِ التَّامِ وَ الْاِحْتِذَاءُ کے نمونہ کو اختیار کرنا۔ اس کے رنگ سے رنگین بن ہونا اور بِمِثَالِهِ وَ الْإِنْصِبَاغُ بِصِبْغِهِ وَالْخُرُوجُ فانی فی اللہ لوگوں کی طرح نفسانیت اور انانیت سے الگ مِنَ النَّفْسِ وَالْأَتَانِيَّةِ كَالْفَانِينَ وَسِرہ ہو جانا۔ اس میں راز یہ ہے کہ انسان کو بیمار اور روگی اور أَنَّ الْعَبْدَ قَدْ خُلِقَ كَالْمَرِيضِ وَالْعَلِيْلِ پیاسے کے مثل پیدا کیا گیا ہے۔ اور اس کی شفا، اس کی وَالْعَطَشَانِ وَشِفَاؤُهُ وَتَسْكِينَ غُلَتِهِ وَ پیاس کی تسکین اور اس کے جگر کی سیرابی اللہ تعالیٰ کی عبادت إِرْوَاءُ كَبِدِهِ فِي مَاءِ عِبَادَةِ اللهِ فَلَا يَبْرَأُ کے پانی سے ہوتی ہے۔ وہ تبھی صحت مند اور سیراب ہو سکتا وَلَا يَرْتَوِى إِلَّا إِذَا يَثْنِي إِلَيْهِ انْصِبَابَهُ ہے۔ جب وہ اللہ کی طرف اپنا رخ موڑ لیتا ہے اور اس کے وَ يُفْرِطُ صَبَابَهُ وَ يَسْعَى إِلَيْهِ ساتھ اپنے عشق کو بڑھاتا ہے اور وہ اس ( معبود حقیقی ) کی كَالْمُسْتَسْقِينَ وَلَا يُطَهِّرُ قَرِيحَتَهُ وَلَا طرف پانی کے طالبوں کی طرح دوڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے يُلَبِّدُ عَجَاجَتَهُ وَلَا يُحَلَّى مُجَاجَتَهُ إِلَّا ذِكْرُ ذکر کے سوا کوئی چیز نہ تو اس کی فطرت کو پاک کر سکتی ہے نہ اللهِ أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ قُلُوبُ الَّذِينَ اس کے غبار خاطر کو مجتمع کر سکتی ہے۔ اور نہ اس کے منہ کا يَعْبُدُونَ اللهَ وَ يَأْتُونَهُ مُسْلِمِينَ، فَفِي آيَةٍ ذائقہ شیریں بنا سکتی ہے۔ سنو! اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان إِيَّاكَ نَعْبُدُ إِقْرَارُ لِمَعْبُودِيَّةِ اللهِ الَّذِی ہی لوگوں کے دل مطمئن ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت هُوَ مُسْتَجْمِعُ بِجَمِيعِ صِفَاتِ الْعَامِلِيَّةِ کرتے ہیں اور اس کے حضور فرمانبردار بن کر آتے ہیں۔