تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 115

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۵ سورة الفاتحة راہ پیدا ہوتی اور ایک حق ہوتا ہے مگر مالکیت یوم الدین وہ حق اور ثمرہ عطا کرتی ہے۔ الحکم نمبر ۱۹ جلد ۷ مؤرخہ ۲۴ رمئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱) مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ مالک ہے جزاء کے دن کا ۔ دہر یہ اس کے مخالف ہیں جو کہتے ہیں کوئی جزا سزا نہیں۔ صفت رحیمیت سے انکار کرنے والے تو پھر لا پرواہی سے عمل نہیں کرتے اور یہ خدا کے وجود سے منکر ہیں۔ اس لئے عمداً اعمال صالحہ کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ البدر نمبر اجلدے مؤرخہ ۹ جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۵) اس جگہ سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفتیں بیان فرمائیں۔ یعنی رب العالمین ۔ رحمان ۔ رحيم - مالك يوم الدين ۔ اور ان ہر چہار صفتوں میں سے رب العالمین کو سب سے مقدم رکھا اور پھر بعد اس کے صفت رحمان کو ذکر کیا۔ پھر صفت رحیم کو بیان فرمایا۔ پھر سب کے اخیر صفت ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کو لائے۔ پس سمجھنا چاہئے کہ یہ ترتیب خدائے تعالیٰ نے کیوں اختیار کی ۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ ان صفات اربعہ کی ترتیب طبعی یہی ہے اور اپنی واقعی صورت میں اسی ترتیب سے یہ صفتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ دنیا پر خدا کا چار طور پر فیضان پایا جاتا ہے۔ جو غور کرنے سے ہر یک عاقل اس کو سمجھ سکتا ہے۔ پہلا فیضان فیضان اعم ہے۔ یہ وہ فیضانِ مطلق ہے کہ جو بلا تمیز ذی روح و غیر ذی روح افلاک سے لے کر خاک تک تمام چیزوں پر علی الاتصال جاری ہے اور ہر ایک چیز کا عدم سے صورت وجود پکڑنا اور پھر وجود کا حد کمال تک پہنچنا اسی فیضان کے ذریعہ سے ہے۔ اور کوئی چیز جاندار ہو یا غیر جاندار اس سے باہر نہیں ۔اسی سے وجود تمام ارواح واجسام ظہور پذیر ہوا اور ہوتا ہے اور ہر ایک چیز نے پرورش پائی اور پاتی ہے۔ یہی فیضان تمام کا ئنات کی جان ہے اگر ایک لمحہ منقطع ہو جائے تو تمام عالم نابود ہو جائے۔ اور اگر نہ ہوتا تو مخلوقات میں سے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اس کا نام قرآن شریف میں ربوبیت ہے۔ اور اسی کی رو سے خدا کا نام رب العالمین ہے۔ جیسا کہ اس نے دوسری جگہ بھی فرمایا ہے وَ هُوَ رَبُّ كُلَّ شَيْءٍ ۔ (الانعام : ۱۶۵) یعنی خدا هر یک چیز کا رب ہے۔ اور کوئی چیز عالم کی چیزوں میں سے اس کی ربوبیت میں سے باہر نہیں سوخدا نے سورۃ فاتحہ میں سب صفات فیضانی میں سے پہلے صفت رب العالمین کو بیان فرمایا اور کہا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ۔ یہ اس لئے کہا کہ سب فیضانی صفتوں میں سے تقدم طبعی صفت ربوبیت کو حاصل ہے یعنی ظہور کے رو سے بھی صفت مقدم الظهور اور تمام صفات فیضانی سے اہم ہے کیونکہ ہر یک چیز پر خواہ جاندار ہو خواہ غیر جاندار مشتمل ہے۔ پھر دوسر اقتسم فیضان کا جو دوسرے مرتبہ پر واقعہ ہے فیضانِ عام ہے۔ اس میں اور فیضانِ اعم میں یہ فرق 6