تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 102
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۲ سورة الفاتحة - زُمَرِ الْمُهْتَدِينَ وَطَوَ آئِفِ الْغَاوِينَ وَ خطا کار گروہ پائے جاتے ہیں وہ سب عالمین میں شامل ہیں ۔ الضَّالِّينَ فَقَدْ يَزِيدُ عَالَمُ الضَّلَالِ کبھی گمراہی ، کفر، فسق اور اعتدال کو ترک کرنے کا ”عالم وَالْكُفْرِ وَالْفِسْقِ وَ تَرْكِ الْإِعْتِدَالِ بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ زمین ظلم وجور سے بھر جاتی ہے اور حَتَّى يُمْلَأُ الْأَرْضُ ظُلْمًا وَجَوْرًا وَ لوگ خدائے ذوالجلال کے راستوں کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ نہ وہ يَتْرُكُ النَّاسُ طُرُقَ اللهِ ذَا الْجَلالِ لا عبودیت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں اور نہ ربوبیت کا حق ادا کرتے يَفْهَمُونَ حَقِيقَةَ الْعُبُودِيَّةِ وَ لَا ہیں ۔ زمانہ ایک تاریک رات کی طرح ہو جاتا ہے اور دین يُؤَدُّونَ حَقَّ الرُّبُوبِيَّةِ فَيَصِيرُ الزَّمَانُ اس مصیبت کے نیچے روندا جاتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک اور كَاللَّيْلَةِ اللَّيْلَاءِ وَيُدَاسُ الدِّينُ "عالم لے آتا ہے تب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل تَحْتَ هَذِهِ اللَّا وَاءِ ، ثُمَّ يَأْتِي اللهُ بِعَالَم دی جاتی ہے۔ اور ایک نئی تقدیر آسمان سے نازل ہوتی ہے اخَرَ فَتُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ اور لوگوں کو عارف ( شناسا) دل اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر وَيَنْزِلُ الْقَضَاءُ مُبَدَّلًا مِنَ السَّمَاءِ ادا کرنے کے لئے ناطق (گویا) زبانیں عطا ہوتی ہیں ۔ پس وَيُعْطَى لِلنَّاسِ قَلْبٌ عَارِفُ وَلِسَان وہ اپنے نفوس کو خدا تعالیٰ کے حضور ایک پامال راستہ کی طرح بنا نَاطِقُ الشُكْرِ النَّعْمَاءِ فَيَجْعَلُونَ لیتے ہیں۔ اور خوف اور امید کے ساتھ اس کی طرف آتے نُفُوْسَهُمْ كَمَوْرِ مُعَبدِ الحَضْرَةِ ہیں ، ایسی نگاہ کے ساتھ جو حیا کی وجہ سے بچی ہوتی ہیں اور الْكِبْرِيَاءِ وَيَأْتُونَهُ خَوْفًا وَ رَجَاءا ایسے چہروں کے ساتھ جو قبلہ حاجات کی طرف متوجہ ہوتے بِطَرْفٍ مَغْضُوضٍ مِنَ الْحَيَاءِ ، وَ وَجْهِ ہیں اور بندگی میں ایسی ہمت کے ساتھ جو بلندی کی چوٹی کو مُقْبِل نَحْوَ قِبْلَةِ الْاسْتِجْدَاءِ - وَهِمَّةٍ دستک دے رہی ہوتی ہے۔ ایسے وقتوں میں ان لوگوں کی فِي الْعُبُودِيَّةِ قَارِعَةٍ ذُرْوَةَ الْعَلَاءِ سخت ضرورت ہوتی ہے جب معاملہ گمراہی کی انتہا تک پہنچ وَيَشْتَلُّ الْحَاجَةُ إِلَيْهِمْ إِذَانْتَهَى الْأَمْرُ جاتا ہے اور حالت کے بدل جانے سے لوگ درندوں اور إِلى كَمَالِ الضَّلَالَةِ وَصَارَ النَّاسُ چو پاؤں کی طرح ہو جاتے ہیں تو اس وقت رحمتِ الہی اور كَسِبَاعٍ أَوْ نَعَمٍ مِنْ تَغَيرِ الْحَالَةِ عنایت از لی تقاضا کرتی ہے کہ آسمان میں ایسا وجود پیدا کیا فَعِنْدَ ذَالِكَ تَقْتَضِي الرَّحْمَةُ الْإِلَهِيَّةُ جائے جو تاریکی کو دور کرے اور ابلیس نے جو عمارتیں تعمیر کی وَالْعِنَايَةُ الْأَزَلِيَّةُ أَنْ يُخْلَقَ فِي السَّمَاءِ ہیں اور خیمے لگائے ہیں انہیں منہدم کر دے۔ تب خدائے