تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 78

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۸ سورة الفاتحة دو مفرد لفظ موجود ہیں اور یہ قاعدہ طالب حق کے لئے نہایت مفید ہوگا کہ ہمیشہ عربی کے باریک فرقوں کے پہچاننے کے لئے صفات اور افعالِ الہیہ کو جو صحیفہ قدرت میں نمایاں ہیں معیار قرار دیا جائے اور ان کے اقسام کو جو قانونِ قدرت سے ظاہر ہوں عربی کے مفردات میں ڈھونڈا جائے اور جہاں نہیں عربی جہاں کہیں عربی کے ایسے مترادف لفظوں کا باہمی فرق ظاہر کرنا مقصود ہو جو صفات یا افعال الہی کے متعلق ہیں تو صفات یا افعال الہی کی اس تقسیم کی طرف متوجہ ہوں جو نظام قانون قدرت دکھلا رہا ہے کیونکہ عربی کی اصل غرض الہیات کی خدمت ہے جیسا کہ انسان کے وجود کی اصل غرض معرفت باری تعالیٰ ہے اور ہر یک چیز جس غرض کے لئے پیدا کی گئی ہے اسی غرض کو سا۔ کو سامنے رکھ کر اس کے عقدے کھل سکتے ہیں اور اس کے جو ہر معلوم ہو سکتے ہیں۔ من الرحمان - روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۷ ۱۴ تا ۱۴۹ حاشیه ) رحم دو قسم کا ہوتا ہے اوّل رحمانیت دوسرا رحیمیت کے نام سے موسوم ہے۔ رحمانیت تو ایسا فیضان ہے کہ جو ہمارے وجود اور ہستی سے بھی پہلے شروع ہوا مثلاً اللہ تعالیٰ نے ہمارے وجود سے پیشتر ہی زمین و آسمان چاند و سورج اور دیگر اشیاء ارضی و سماوی پیدا کی ہیں جو سب کی سب ہمارے کام آنے والی ہیں اور کام آتی ہیں ۔ دوسرے حیوانات بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں مگر وہ جب کہ بجائے خود انسان ہی کے لئے مفید ہیں اور انسان ہی کے کام آتے ہیں تو گو یا مجموعی طور پر انسان ہی ان سب سے فائدہ اُٹھانے والا ٹھہرا۔ دیکھو جسمانی امور میں کیسی اعلیٰ درجہ کی غذائیں کھاتا ہے اعلیٰ درجہ کا گوشت انسان کے لئے ہے ٹکڑے اور ہڈیاں کتوں کے واسطے۔ جسمانی طور پر تو کسی حد تک حیوان بھی شریک ہیں مگر روحانی لذت میں جانور شریک نہیں ہیں ۔ پس یہ دو قسم کی رحمتیں ہیں ایک وہ جو ہمارے وجود سے پہلے ہی عطا ہوئی ہیں اور دوسری وہ جو رحیمیت کی شان کے نمونے ہیں اور وہ دُعا کے بعد پیدا ہوتے ہیں اور ان میں ایک فعل کی ضرورت ہوتی ہے۔ الحکم نمبر ۳۲ جلد ۵ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۱ء صفحه ۲، ۳) پھر اللہ تعالیٰ کی صفت رحیم بیان کی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفت ہے جس کا تقاضا ہے کہ محنت اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ان پر ثمرات اور نتائج مترتب کرتا ہے اگر انسان کو یہ یقین ہی نہ ہو کہ اس کی محنت اور کوشش کوئی پھل لاوے گی تو پھر وہ سست اور نکما ہو جاوے گا ۔ یہ صفت انسان کی امیدوں کو وسیع کرتی اور نیکیوں کے کرنے کی طرف جوش سے لے جاتی ہے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ رحیم قرآن شریف کی اصطلاح اور میں اللہ تعالیٰ اس وقت کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دُعاء تضرع اور اعمال صالح کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں