تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 328

فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰى ١ؕ قُلْ <mark><mark>اس</mark></mark> جہان کے بارے میں (بھی) <mark>او</mark>ر آخرت کے بارے میں بھی۔<mark>او</mark>ر یہ (لوگ )تجھ سے یتامیٰ کے بارے میں( بھی) اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ پوچھتے ہیں۔تو کہہ دے (کہ) ان کی اصلاح بہت اچھا کام ہے۔<mark>او</mark>ر اگر تم ان سے مل جل <mark>کر</mark>رہو تو (<mark><mark>اس</mark></mark> میں کوئی يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ حرج نہیں کیونکہ) وہ تمہارے بھائی ہی ہیں <mark>او</mark>ر <mark>اللہ</mark> فساد <mark>کر</mark>نے والے کو اصلاح <mark>کر</mark>نے والے کے مقابلہ میں خوب اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۰۰۲۲۱ جانتا ہے۔<mark>او</mark>ر اگر <mark>اللہ</mark> چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا۔<mark>اللہ</mark> یقیناً غالب (<mark>او</mark>ر) حکمت والا ہے۔حلّ لُغات۔اَعْنَتَ کے معنے ہیں وہ کام <mark>سپر</mark>د <mark>کر</mark>نا <mark>جس</mark> کی طاقت <mark>او</mark>ر برداشت نہ ہو۔کہتے ہیں اَعْنَتَ الرَّاکِبُ الدَّآبَّۃَ اَیْ حَمَلَھَا مَالَا تَحْتَمِلُہٗ (اقرب) سوار نے سواری وغیرہ کو ایسے کام پر لگایا <mark>جس</mark> کی <mark><mark>اس</mark></mark>ے طاقت نہ تھی۔تفسیر۔فرماتا ہے لوگ تجھ سے یتامیٰ کے متعلق سوال <mark>کر</mark>تے ہیں۔تو ان سے کہہ دے کہ ان کی اصلاح <mark>او</mark>ر ترقی کو مدنظر رکھنا بڑا اچھا کام ہے <mark>او</mark>راگر تم ان سے مل جل <mark>کر</mark>رہو تو <mark><mark>اس</mark></mark> میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ آخر وہ تمہارے بھائی ہیں <mark>او</mark>ر بھائیوں کے ساتھ مل <mark>کر</mark> رہنا بڑی اچھی بات ہے۔<mark>او</mark>ر <mark>اللہ</mark> تعالیٰ فساد <mark>کر</mark>نے والے کو اصلاح <mark>کر</mark>نے والے کے مقابلہ میں خوب جانتا ہے۔یتامیٰ کے متعلق آج دنیا میں بڑاظلم ہو رہا ہے۔یا تو ان پر حد سے زیادہ سختی کی جاتی ہے <mark>او</mark>ر یا پھر حد سے زیادہ پیار کیا جاتا ہے <mark>جس</mark> کی وجہ سے وہ بگڑ جاتے ہیں حالانکہ نہ ان پر زیادہ سختی <mark>کر</mark>نی چاہیے <mark>او</mark>ر نہ اتنا پیار <mark>کر</mark>نا چاہیے کہ خواہ وہ کچھ <mark>کر</mark>یں یہ کہہ دیا جائے کہ <mark><mark>اس</mark></mark>ے کچھ نہیں کہنا <mark><mark>اس</mark></mark> کا باپ مرا ہوا ہے۔عام طور پر لوگ ان کو ل<mark>او</mark>ارث پا <mark>کر</mark> یا تو حد سے زیادہ سختی <mark>کر</mark>تے ہیں یا پھر حد سے زیادہ نرمی۔لوگ جھوٹے رحم سے کام لے <mark>کر</mark> انہیں کچھ نہیں کہتے <mark>او</mark>ر <mark><mark>اس</mark></mark> طرح وہ بچے جو یتیم رہ جاتے ہیں بگڑ جاتے <mark>او</mark>ر ان کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔قرآن <mark><mark>کر</mark>یم</mark> کہتا ہے کہ تم ہر بات میں ان کی