تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 577

کے فضلوں کو جذب کرو اس طرح کمزوری کے راستے بند ہوں گے اور طاقت کے حصول کے دروازے کھل جائیں گے اور تم کامیاب ہو جائو گے حَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے کہ صبر کے معنے صرف جزع فزع سے بچنے کے ہی نہیں ہوتے بلکہ برُے خیالات کا اثر قبول کرنے سے رکنے اور <mark>ان</mark> کا مقابلہ کرنے کے بھی ہوتے ہیں اوپر کی تفسیر میں یہی معنے مراد ہیں جب کوئی بد اثرات کو ردّ کرے اور نیک اثرات کو قبول کرنے کی عادت ڈالے جو دعائوں سے حاصل ہو سکتی ہے تو اس کے دل میں روح<mark>ان</mark>یت پیدا ہو کر جو کام پہلے مشکل <mark>نظر</mark> آتا تھا آس<mark>ان</mark> ہو جاتا ہے اور روح<mark>ان</mark>ی ترقی کی جنگ میں اسے فتح حاصل ہوتی ہے۔وَ اِنَّهَا لَكَبِيْرَةٌ میں کبیرہ کے معنی مشکل امر کے اگلے جملہ میں جو کَبِیْرَۃٌ کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کے معنے بڑی کے ہیں اور اس آیت میں موقعہ کے لحاظ سے مشکل امر کے معنے ہوتے ہیں اور خَاشِعٌ کے معنے ڈرنے والے کے ہوتے ہیں لیکن قرآن کریم میں یہ لفظ جس جگہ بھی استعمال ہوا ہے اس ہستی سے ڈرنے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جس سے ڈرنا مناسب ہو چن<mark>ان</mark>چہ خَاشِعٌ کا لفظ سارے قرآن کریم میں یا تو خدا تعالیٰ سے ڈرنے یا اس کے عذاب سے ڈرنے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔بندوں یا دوسری چیزوں سے ڈرنے کے معنوں میں کبھی استعمال نہیں ہوا۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوسکتا تھا کہ اس قسم کا علاج بت<mark>ان</mark>ا آس<mark>ان</mark> ہے اس پر عمل کرنا مشکل ہے پس اس کا جواب وَ اِنَّهَا لَكَبِيْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِيْنَمیں دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس علاج پر عمل مشکل کام ہے لیکن جو خَاشِع ہو جائے اس کے لئے مشکل نہیں رہتا گویا گناہوں اور کمزوریوں سے بچنے کا حقیقی علاج خدا تعالیٰ پر ایم<mark>ان</mark> ہے بغیر اللہ تعالیٰ پر کامل ایم<mark>ان</mark> کے <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> دوسری تدبیروں سے گناہ سے نہیں بچ سکتا۔دنیا نے بارہا اس کا تجربہ کیا ہے لیکن افسوس کہ وہ بار بار اس نکتہ کو بھول جاتی ہے حقیقی نیکی اور کامل نیکی کبھی بھی خدا تعالیٰ پر کامل یقین کے بغیر نہیں پیدا ہوتی فلسفی<mark>ان</mark>ہ دلائل <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کے <mark>ان</mark>در سچا تقویٰ نہیں پیدا کر سکتے۔خدا تعالیٰ پر کامل ایم<mark>ان</mark> کے بعد جو خوف بدیوں سے پیدا ہوتا ہے وہ اور کسی طرح پیدا نہیں ہوتا اسی وجہ سے <mark>ان</mark>بیاء کی جماعتوں نے جو نیکی اور قرب<mark>ان</mark>ی کا نمونہ دکھایا ہے وہ اور کوئی جماعت دنیا کی نہیں دکھا سکتی۔آیت ھٰذامیں بنی اسرائیل کے لئے حددرجہ کی خیرخواہی اس آیت میں جس محبت اور خیر خواہی سے بنی اسرائیل کو نصیحت کی گئی ہے وہ اس اعلیٰ روح کا جو اسلام دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے ایک بیّن ثبوت ہے لفظ لفظ سے <mark>ان</mark> کی خیر خواہی ٹپکتی ہے اور <mark>ان</mark> الفاظ کا کہنے والا بنی اسرائیل کو غلطی سے بچ<mark>ان</mark>ے کا پورا خواہشمند معلوم ہوتا ہے