تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 574

الْجَبَلِ الْعَالِیْپہاڑی بکر اپہاڑ پر چڑھ گیا اور وہاں جا کر رُک کر محفوظ ہو گیا۔نیز اَلْعَقْلُ کے معنے ہیں نُوْرٌ رُوْحَ<mark>ان</mark>ِیٌّ بِہٖ تُدْرِکُ النَّفْسُ الْعُلُوْمَ الضَّرُوْرِیَّۃَ وَالنَّظَرِیَّۃَ کہ عقل اس روح<mark>ان</mark>ی روشنی کا نام ہے جس کے ذریعہ سے نفس بدیہی باتوں کو یا غورو فکر سے معلوم ہونے والی باتوں کو معلوم کرتا ہے۔(اقرب) پس اَفَـلَا تَعْقِلُوْنَ کے معنے ہوں گے (۱) کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے (۲) کیا تم اپنی ناواجب حرکات سے رُکتے نہیں۔تفسیر۔بِرٌّ کے معنے جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں لکھا جا چکا ہے اعلیٰ درجہ کے احس<mark>ان</mark> اور نیکی کے ہوتے ہیں اس آیت میں توجہ دلائی ہے کہ بنی اسرائیل اپنی کتب کے حکم کے مطابق لوگوں کو بہت احس<mark>ان</mark> کرنے اور نیکی کرنے کا حکم دیتے تھے لیکن اپنا یہ حال تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے عظیم الش<mark>ان</mark> نبی کو صرف دنیوی نقص<mark>ان</mark> کے ڈر کے مارے قبول نہ کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو تو اپنی ج<mark>ان</mark>وں کو بھی تو نہ بھولو ، <mark>ان</mark> کا حق تو تم پر زیادہ ہے۔نسی<mark>ان</mark> کے معنے چھوڑنے کے بھی ہیں۔اس کے رو سے یہ معنی ہوں گے کہ لوگوں کو اعلیٰ نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے نفسوں کو چھوڑ دیتے ہو <mark>ان</mark>ہیں ایسا حکم کیوںنہیں دیتے کہ تمہارا عمل تمہارے قول کے خلاف نہ ہو۔اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَکے یہ معنے نہیں کہ تورات غیرمحرّف ہے وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ کے یہ معنے نہیں کہ تمہاری کتاب محرّف مبدل نہیں جیسا کہ <mark>بعض</mark> ناواقف نتیجہ نکالتے ہیں بلکہ کتاب کا ذکر پہلے حکم کے سلسلہ میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم تو اپنی کتاب پڑھتے ہو اس میں تو یہ حکم نہیں کہ دوسروں کو تو نیکی کا حکم دو اور اپنے آپ کو بد راہ پر چلائو پس جب تم جس کتاب کو م<mark>ان</mark>تے ہو وہ بھی اس طریق کو جائز نہیں قرار دیتی تو تم نے اس طریق کو کیوں اختیار کر رکھا ہے چاہیے کہ جس طرح دوسروں کو قرب<mark>ان</mark>ی کا حکم دیتے ہو خود بھی حق کے لئے قرب<mark>ان</mark>ی کرو اور اپنی ج<mark>ان</mark>وں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔اَفَلَا تَعْقِلُوْنَکے معنے رکنے کے اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ پھر کیا تم باز نہیں آتے یعنی اگر تمہاری کتب میں یہ تعلیم نہ ہوتی کہ اپنے نفس کو بھی نیکی کی راہ پر چلائو تو تم کو معذور سمجھا جا سکتا تھا لیکن اس تعلیم کی موجودگی میں تمہارا نیکی کے راستہ سے بھٹکنا تو سخت افسوسناک ہے۔پس کسی <mark>دوسرے</mark> کی نہیں م<mark>ان</mark>تے تو اپنی کتاب کے حکم ہی کو م<mark>ان</mark>و اور نیکی اور تقویٰ کی راہ پر چلو۔