تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 569

چھپ<mark>ان</mark>ا اتفاقی حادثہ نہیں اور نہ غلطی کی وجہ سے ہے بلکہ تم ایسا دیدہ و د<mark>ان</mark>ستہ کرتے ہو اور جو دیدہ و د<mark>ان</mark>ستہ ایسے گناہ کا مرتکب ہو ہر گز خدا تعالیٰ کے فضل کا وارث نہیں ہو سکتا۔وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ۰۰۴۴ اور نماز کو قائم رکھو اور زکوٰة دو اور خدا کی خالص پرستش کرنے والوں کے ساتھ مل کر خدا ہی کی خالص پر ستش کرو۔حَلّ لُغَات۔اَقِیْمُوْا اَقِیْمُوْا امر جمع مخاطب کا صیغہ ہے۔مزید تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۴۔اَلصَّلٰوۃُ۔تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۴۔اَلزَّکٰوٰۃُ۔زَکَا (یَزْکُوْا) تَزْکِیَۃً کا اسم ہے اور زَکَی الشَّیْءُ کے معنے ہیں نَـمَا کوئی چیز زیادہ اور بکثرت ہو گئی۔<mark>کہتے</mark> ہیں زَکَا الرَّجُلُ۔صَلَحَ وَ تَنَعَّمَ وَکَ<mark>ان</mark>َ فِیْ خَصْبٍ۔کوئی شخص اچھی عمدہ حالت میں ہو گیا۔خوشحالی میں ہو گیا (کیونکہ زَکَتِ الْاَرْضَ اس وقت بولتے ہیں جبکہ وہ سرسبز ہو جائے) اور جب زَکَّاہُ اللّٰہُ کہیں تو اس کے معنے ہوں گے۔اَنْمَاہُ اللہ تعالیٰ نے اس کو پرو<mark>ان</mark> چڑھایا۔طَھَّرَہٗ اسے پاکیزہ کیا۔زَکّٰی فُـلَ<mark>ان</mark>ٌ مَالَہٗ کے معنے ہیں اَدَّی عَنْہُ زَکٰوۃً اس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی اور جب زَکّٰی نَفْسَہٗ کہیں تو معنے ہوں گے کہ مد حھا اپنے نفس کو اس نے تعریف کے قابل بنایا اور تَزَکَّی کے معنے ہیں تَصَدَّقَ اس نے صدقہ دیا اور اَلزَّکٰوۃُ کے معنے ہیں (۱) صَفْوَۃُ الشَّیْ ءِ اعلیٰ درجہ کی چیز(۲) طَاعَۃُ اللہِ اللہ کی اطاعت۔(۳) مَا اَخْرَجْتَہٗ مِنْ مَالِکَ لِتُطَھِّرَہٗ بِہٖ۔مال کا وہ حصہ جو بطور زکوٰۃ نکالا جاتا ہے تاکہ باقی مال پاک ہو جائے۔وَقِیْلَ سُمِّیَتِ الصَّدَقَۃُ بِالزَّکٰوۃِ لِاَنَّھَا تَزِیْدُ فِی الْمَالِ الَّذِیْ تُخْرَجُ مِنْہُ وَ تُوَفِّرُہٗ وَتَقِیْہِ مِنَ الْاٰفَاتِ۔اور صدقہ کا نام اس لئے زکوٰۃ رکھا گیا ہے کیونکہ جس مال سے زکوٰۃ نکالی جائے وہ اس مال میں برکت ڈالتی ہے اور اس کو بڑھاتی ہے اور اُسے آفات سے بچاتی ہے۔(اقرب) اِرْکَعُوْا۔اِرْکَعُوْا امر جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور رَکَعَ الْمُصَلِّیْ (رَکْعًا وَ رُکُوْعًا) کے معنے ہیں طَأْطَأَ رَاْسَہٗ۔نمازی نے اپنا سر نیچے کیا اور جب رَکَعَ اِلَی اللّٰہِ کہیں تو معنے ہوں گے اِطْـمَأَنَّ اِلَیْہِ اس نے اللہ کی طرف تسلی پائی۔نیز رَکَعَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں اِنْحَطَتْ حَالَتُہٗ وَ افْتَقَرَ اس کی مالی حالت کمزور ہو گئی اور وہ محتاج ہو