تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 563

ہونے کی وجہ سے <mark>اس</mark> کا انکار کرتے ہیں اور <mark>اس</mark> کا ثبوت ہمارے پ<mark>اس</mark> یہ ہے کہ <mark>اس</mark> کو ماننے والے ادنیٰ لوگ ہیں بڑے لوگ تو سب <mark>اس</mark> کے مخالف ہیں اگر یہ سچا ہوتا تو سب سے پہلے ہمیں <mark>اس</mark> پر ایمان لانے کا موقعہ ملتا۔<mark>اس</mark> کا جواب یہ فرمایا کہ <mark>اس</mark> سے پہلے موسیٰ کی کتاب گزر چکی ہے جو اپنی ہدایت اور فائدہ کے لحاظ سے اپنی سچائی کا ثبوت دے چکی ہے <mark>اس</mark> میں <mark>اس</mark> کتاب کے بارہ میں پیشگوئیاں ہیں جن کو یہ کتاب پورا کرتی ہے چنانچہ ان پیشگوئیوں کا ایک حصہ یہ ہے کہ <mark>اس</mark> کتاب کی زبان عربی ہو گی اور دوسری یہ کہ <mark>اس</mark> کی قوم کے لوگ <mark>اس</mark> کے مخالف ہوں گے اب ان صدیوں پہلے کی پیشگوئیوں کو جب یہ کتاب پورا کرتی ہے تو تم <mark>اس</mark> کا انکار کیونکر کر سکتے ہو؟ آیندہ شریعت کے عربی زبان میں ہونے کی پیشگوئی <mark>اس</mark>تثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ سے نکلتی ہے جہاں بتایا ہے کہ آنے والا موعود بنو <mark>اس</mark>رائیل کے بھائیوں میں سے یعنی بنو <mark>اس</mark>مٰعیل میں سے ہو گا اور <mark>اس</mark> کی مخالفت کی خبر <mark>اس</mark>تثناء باب ۳۳ آیت ۲ سے نکلتی ہے جہاں لکھا ہے کہ وہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آئے گا اور <mark>اس</mark> کے داہنے ہاتھ میں آتشی شریعت ہو گی یعنی وہ ضرورت کے موقعہ پر جنگ کرے گا اور جنگ کی اجازت دے گا۔ظاہر ہے کہ جنگ کی ضرورت <mark>اس</mark> وقت ہوتی ہے جب قوم مخالفت کرے اور مخالف زبردست ہوں۔پس مکہ والوں کا یہ کہنا کہ ہم جو بڑے لوگ ہیں ایمان نہیں لاتے یہ ان کے سچا ہونے کی دلیل نہیں بلکہ قرآن کریم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا ہونے کی دلیل ہے کیونکہ <mark>اس</mark> کے ذریعہ سے موسیٰ ؑ کی خبر کا ایک اور حصہ پورا <mark>ہوا</mark> اور ایک طرف <mark>اس</mark> سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق ہوئی تو دوسری طرف حضرت موسیٰ کی سچائی ظاہر ہوئی۔<mark>اس</mark> آیت سے تصدیق کے معنے بالکل واضح ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ زبانی تصدیق کہ تورات سچی ہے کفارِ مکہ پر کیا اثر کر سکتی تھی وہ قرآن اور تورات دونو ںکو جھوٹا سمجھتے تھے۔کفار مکہ پر وہی تصدیق حجت ہو سکتی تھی جس میں کسی پیشگوئی کے پورا ہونے کا ذکر ہوکیونکہ پیشگوئی خواہ کسی نبی کی ہو چونکہ علم غیب پر مشتمل ہوتی ہے ہر ایک شخص پر حجت ہوتی ہے۔وَلَا تَکُوْنُوْا الخ کی تشریح خلاصہ یہ کہ سورۂ احقاف کی مذکورہ بالا آیت میں تصدیق کے معنے پیشگوئی پورا کرنے کے سوا اور کوئی ہو ہی نہیں سکتے اور یہی معنی ہیں جو مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ والی آیت اور <mark>اس</mark>ی قسم کی دوسری آیات میں <mark>اس</mark>تعمال ہوئے ہیں۔وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ۔<mark>اس</mark> جملہ کا پہلا حصہ جمع ہے اور دوسرا مفرد یعنی لَا تَکُوْنُوْا کے معنے ہیں کہ اے بنی <mark>اس</mark>رائیل! تم نہ بنو اور <mark>اس</mark> کا جواب کہ کیا نہ بنو یہ دیا ہے کہ اوّل کافر نہ بنو اور کافرمفرد ہے اُردو کے لحاظ سے تو <mark>اس</mark> پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ اردو میں ایسے موقعہ پر مفرد کا لفظ ہی <mark>اس</mark>تعمال کرتے ہیں لیکن عربی کے محاورہ