تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 542

گا سے یہی مراد تھا کہ پہلے <mark>ان</mark>بیاء کا سارا کلام لفظی نہ ہوتا تھا بلکہ اکثر حصہ <mark>ان</mark> کے دل پر بطور مفہوم نازل ہوتا یا بطور نظارہ دکھایا جاتا اور بعد میں وہ اسے اپنے الفاظ میں بی<mark>ان</mark> کرتے۔محمدرسول اللہ صلعم کی یہ خصوصیت اس پیشگوئی میں بتائی گئی کہ وہ خدا تعالیٰ کے مفہوم کو اپنے الفاظ میں بی<mark>ان</mark> نہ کریں گے بلکہ خدا تعالیٰ کے مفہوم کو خدا تعالیٰ کے ہی الفاظ میں بی<mark>ان</mark> کریںگے اور جو الفاظ وہ اپنے منہ سے خدا تعالیٰ کا منشاء بت<mark>ان</mark>ے کے لئے نکالیں گے وہ خود خدا تعالیٰ ہی کے الفاظ ہوں گے پس فرمایا کہ میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا یعنی باقی <mark>ان</mark>بیاء کے تو دلو ںپر کلام نازل ہوتا تھا اور مُنہ تک آتے ہوئے وہ نبیوں کے کلام کے لباس میں ملبوس ہو جاتا تھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دل پر بھی خدا تعالیٰ کا کلام اُتارا جائے گا اور منہ پر بھی وہی لفظ بعینہٖ جاری ہوں گے جو خدا تعالیٰ نے کہے ہوں گے اسی کی طرف قرآن کریم کی اس آیت میں اشارہ ہے کہ وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى (النّجم :۴،۵) محمد رسول اللہ اپنی مرضی سے خدا تعالیٰ کے منشاء کو الفاظ کا جامہ نہیں پہناتے بلکہ صرف وہی الفاظ وحی کے جو خدا تعالیٰ نے معین شکل میں <mark>ان</mark> کے دل پر نازل کئے ہیں دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں (د) آپؐ نے خدا تعالیٰ کے کلام کو نڈر ہو کر سنایا اور سارا کلام سنایا چن<mark>ان</mark>چہ قرآن کریم کا وجود اس پر شاہد ہے۔شدید مخالفت آپؐ کی کی گئی اور کفار نے ہزار لالچ آپ کو دی کہ کسی طرح <mark>بعض</mark> حصے جو <mark>ان</mark> کے بتوں کے خلاف تھے حذف کر دیئے جائیں یا کمزور کر دیئے جائیں مگر آپؐ نے ذرا <mark>ان</mark> کی پروا نہیں کی اور خدا تعالیٰ کا کلام پورا کا پورا اصلی شکل میں لوگوں تک پہنچا دیا چن<mark>ان</mark>چہ قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں ہےفَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ وَ ضَآىِٕقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ يَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِيْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ(ہود:۱۳)یعنی تیرے مخالف اس امر کی طمع رکھتے ہیں کہ شاید <mark>ان</mark> کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر تو اس وحی میں سے جو تجھ پر نازل کی گئی ہے کچھ چھوڑ دے اور شائد کہ تیرا سینہ <mark>ان</mark> کے اس اعتراض سے ڈر کر کہ کیوں اس کے ساتھ خز<mark>ان</mark>ہ نہیں اترا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ آسم<mark>ان</mark> سے تائید کے لئے نہیں آیا <mark>بعض</mark> حصہ وحی کا چھوڑ دے ؟مگر ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ تو ایک ڈر<mark>ان</mark>ے والا ہے۔ڈر<mark>ان</mark>ے والا <mark>ان</mark> لوگوں سے کس طرح ڈر سکتا ہے جن کے متعلق تباہی کی خبر دی گئی ہے؟ اور اللہ تو ہر چیز پر نگر<mark>ان</mark> ہے پھر اس کے حکم سے کوئی باہر کیونکر نکل سکتا ہے (اس آیت کی پوری تفسیر کے لئے آیت نمبر ۱۳سورۂ ہود) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس امر پر شہادت دی اور لوگوں سے بھی دلوائی کہ آپؐ نے خدا تعالیٰ کا کلام سب کا سب دنیا کو پہنچا دیا چن<mark>ان</mark>چہ حجۃ الوداع کے موقع پر جب آپؐ کو یہ قرآنی وحی ہوئی کہ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المائدۃ:۴) آج میں نے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے تو آپؐ نے تمام مسلم<mark>ان</mark>وں کے سامنے دوبارہ مسلم<mark>ان</mark>وں کو <mark>ان</mark> کے فرائض کی طرف توجہ دلائی اور پھر فرمایا