تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 532

ایسا نہ کرے گا تو گویا تو نے کوئی حصہ بھی کلام الٰہی کا نہیں پہنچایا اور اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کے حملوں سے بچائے گا۔اللہ تعالیٰ کافروں کو کامیابی کا ر<mark>اس</mark>تہ کبھی نہیں دکھاتا۔<mark>اس</mark> <mark>آیت</mark> میں بتایا گیا ہے کہ تورات اور انجیل کے ماننے والے اگر ان کی تعلیم کو مانتے ہوئے <mark>اس</mark> کلام کو جو آخری زمانہ میں ان کی ہدایت کے لئے نازل کیا گیا ہے مان لیں اور ایمان اور تقویٰ سے کام لیں تو اللہ تعالیٰ ان کے لئے الہام اور رزقِ طیّب کا دروازہ کھول دے گا اور اپنی سابق بدیوں کے عذاب سے وہ محفوظ ہو جائیں گے۔گویا <mark>اس</mark> رنگ میں اللہ تعالیٰ اپنے عہد کو ان سے پورا کرے گا اوراُن کو آسمانی و دنیاوی انعامات سے متمتع کرے گا۔پھر فرمایا ہے کہ اے رسول! ان اقوام کو خوب تبلیغ کر‘ تا ان پر حجت پوری ہو جائے اور ان میں سے جو بچائے جا سکیں بچائے جائیں پس گو نبوت حسب ِ پیشگوئی حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی <mark>اس</mark>رائیل میں سے نکال کر بنی <mark>اس</mark>مٰعیل میں آ گئی لیکن پھر بھی اگر بنی <mark>اس</mark>رائیل اپنے عہد کو پورا کرنے میں لگ جائیں تو ان کے لئے خدا تعالیٰ اپنے عہد کو پوراکرنے کے لئے تیار ہے۔<mark>اس</mark>تثناء باب ۱۸ کی پیشگوئی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے <mark>اس</mark> <mark>آیت</mark> میں ایک لطیف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ بنی <mark>اس</mark>رائیل کو ایمان لانے کی ہدایت کے بعد یہ <mark>آیت</mark> رکھی گئی ہے کہ اے رسول! جو تجھ پر نازل کیا گیا ہے سارا کا سارا پہنچا دے اور یہی الفاظ <mark>اس</mark>تثناء کی پیشگوئی کے آخر میں ہیں کیونکہ وہاں لکھا ہے ’’اور جو کچھ میں <mark>اس</mark>ے فرمائوںگا وہ سب ان سے کہے گا۔‘‘ (<mark>اس</mark>تثنا باب ۱۸ <mark>آیت</mark> ۱۸) آیت اَوْفُوْا بِعَهْدِيْۤ سے یہ <mark>اس</mark>تدلال کہ اُمت ِ محمدیہ میں غیرتشریعی نبوت کا دروازہ بند نہیں <mark>آیت</mark> اَوْفُوْا بِعَهْدِيْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ (البقرۃ:۴۱)سے یہ <mark>اس</mark>تدلال بھی ہوتا ہے کہ اُمتِ محمدیہ میں غیر تشریعی نبوت کا دروازہ بند نہیں اور وہ <mark>اس</mark> طرح کہ اللہ تعالیٰ بنی <mark>اس</mark>رائیل سے فرماتا ہے کہ اگر تم میرا عہد پورا کرو یعنی خدا کی باتو ںکو مان لو اور وقت کے نبی محمد رسول اللہ پر ایمان لائو تو میں نے جو تم سے عہد کیا تھا وہ میں پھر تم سے پورا کروں گا اور اوپر بتایا جا چکا ہے کہ وہ عہد یہ تھا کہ ان سے نبی پیدا ہوتے رہیں گے۔پس معلوم ہوا کہ اُمت ِمحمدیہ میں نبوت کا دروازہ مسدود نہیں صرف شریعت ختم ہوئی ہے ورنہ بے شریعت والے اور قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع اور خادم نبی اب بھی پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ اگر ایسا ممکن نہ تھا تو اللہ تعالیٰ کے <mark>اس</mark> قول کے کیا معنے ہوئے کہ اگر اب بھی تم اپنا عہد پورا کرو تو میں تم سے اپنا عہد پورا کروں گا؟ یہ قول <mark>اس</mark>ی وقت درست ہو سکتا ہے جبکہ اُمت ِمحمدیہ میں نبوت کا دروازہ کھلا ہو اور بنی <mark>اس</mark>رائیل میں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کو <mark>اس</mark> کا وعدہ دیا جائے۔یہ امر بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مذکورہ بالا پیشگوئی کے مطابق بنی <mark>اس</mark>رائیل میں آئندہ