تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 528
جب کوئی نبی تیری مانند کھڑا کیا جائے گا (یعنی صاحبِ شریعت ہو گا)تو وہ ان کے بھائیوں میں سے ہو گا(یعنی ان میں سے نہ ہو گا) گو حضرت موسیٰ نے کہا ہے کہ تم میں سے تمہارے بھائیوں میں سے نبی کھڑا کیا جائے گا۔(<mark>اس</mark>تثنا باب ۱۸ آیت ۱۵) لیکن اوّل تو یہ خدا تعالیٰ کے <mark>اس</mark> کلام کے خلاف ہے جو <mark>اس</mark> نے موسیٰ ؑ سے کیا۔کیونکہ <mark>اس</mark> میں ’’تم میں سے‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ صرف یہی ہے کہ تیرے بھائیوں سے۔دوم یہ فقرہ ہی بے <mark>معنی</mark> ہے کہ تم میں سے۔تمہارے بھائیوں میں سے جبکہ <mark>اس</mark> کلام کے سب بنی <mark>اس</mark>رائیل مخاطب تھے تو پھر تم میں سے کہہ کر تمہارے بھائیوں میں سے کہنا لغو تھا۔جب بنی <mark>اس</mark>رائیل کو مخاطب کر کے کہا جائے گا کہ تمہارے بھائیوں سے نبی کھڑا کیا جائے گا۔تو وہ بنی <mark>اس</mark>رائیل کے سوا کسی اور قوم میں سے ہو گا نہ ان میں سے اور اگر ان میں سے ہو تو پھر بھائیوں سے نہیں کہلا سکتا۔بنی <mark>اس</mark>رائیل کا خدا تعالیٰ کے کلام کو سننے سے انکار سوم بنی <mark>اس</mark>رائیل کے بھائیو ںمیں سے نبی کھڑا کرنا تو سزا کے طور پر تھا۔اگر انہیں میں سے نبی ہو۔تو سزا نہیں رہتی۔جیسا کہ <mark>اس</mark>تثنا باب ۱۸ آیت ۱۶ میں لکھا ہے ’’<mark>اس</mark> سب کی مانند جو تو نے خداوند اپنے خدا سے حورب میں مجمع کے دن مانگا اور کہا کہ ایسا نہ ہو کہ میں خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سنوں اور <mark>ایسی</mark> شدت کی آگ َمیں پھر دیکھوں تاکہ میں مر نہ جائوں‘‘ پھر لکھا ہے ’’اور خداوند نے مجھے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا۔سو اچھا کہا۔میں ان کے لئے ان کے بھائیوںمیں سے تجھ سا ایک نبی برپا کرونگا۔اور <mark>اپنا</mark> کلام <mark>اس</mark> کے منہ میں ڈالونگا۔اور جو کچھ میں اُسے فرمائوں گا وہ سب ان سے کہے گا۔‘‘ (<mark>اس</mark>تثنا باب ۱۸آیت ۱۷ و ۱۸) بنی <mark>اس</mark>رائیل کے عہد پر قائم نہ رہنے سے اُن سے نعمت کا چھن کر بنو<mark>اس</mark>ماعیل میں آنا <mark>اس</mark> عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ بنی <mark>اس</mark>رائیل نے خدا کا کلام سننے سے انکار کر دیا جو کلام کہ شریعت کے متعلق تھا تو آئندہ خدا تعالیٰ نے ان کے لئے شریعت کا دروازہ بند کر دیا اور کہا کہ جب کسی ایسے نئے نبی کی ضرورت ہو گی جو موسیٰ کی مانند ہو تو وہ ان کے بھائیوں میں سے کھڑا کیا جائے گا۔<mark>اس</mark> عہد کے ماتحت بنی <mark>اس</mark>رائیل کو ہر قسم کی ترقی ملتی رہی اور ان کی روحانی زندگی کے لئے بادشاہ ہوتے رہے۔اور ان کو سوائے ایک قلیل درمیانی مدت کے ارضِ مقدس پر حکومت میسر رہی گو مسیح کے نزول کے بعد ارضِ مقدس کا قبضہ <mark>اس</mark> گروہ کے ہاتھ آ گیا جو مسیح کا ماننے والا تھا۔اللہ تعالیٰ نے <mark>اس</mark> آیت کریمہ میں <mark>اس</mark>ی عہد کی طرف اہل کتاب کو متوجہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ ہم سے تمہارا ایک عہد تھا۔جس کے پورا کرنے کی صورت میں ہم نے تم سے برکت کی زندگی کا وعدہ کیا تھا۔تم اگر <mark>اس</mark> عہد کو پورا کرو۔تو میں اپنے عہد کو پورا کرنے کے لئے تیار ہوں جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عہد کا ذکر قرآن کریم میں ہے جو اوپر گزر چکا ہے۔موسوی عہد کا ذکر قرآن مجید میں مذکورہ بالا موسوی عہد کا ذکر بھی قرآن کریم میں موجود ہے فرماتا ہے