تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 520

اقسام ہو گئیں ایک جو یہودی مذہب پر تھے اور دوسرے جو مسیحی تھے <mark>اس</mark>لام نے آ کر <mark>اس</mark>رائیلیوں میں سے بعض کو مسلمان بنا لیا اور <mark>اس</mark> طرح ایسے <mark>اس</mark>رائیلی بھی ہو گئے جن کا مذہب <mark>اس</mark>لام تھا۔لفظ یہود کے <mark>اس</mark>تعمال کی ابتدا اور <mark>اس</mark> کے معنے کی وسعت خلاصہ یہ کہ یہودیہ کے رہنے والوں میں چونکہ موسوی مذہب نے فروغ پایا اور تمام بڑے انبیاء وہیں پیدا ہوئے یا <mark>اس</mark>ی سے تعلق رکھتے تھے جیسے یرمیاہ، حزقیل، دانی ایل، عزرا ،نحمیاہ و<mark>غیر</mark> ھم۔اور <mark>اس</mark>رائیلی حکومت میں بت پرستی رائج ہو گئی۔یہودیہ کی حکومت کے توابع یہودکے نام سے مشہور ہوئے اور چونکہ <mark>اس</mark> زمانہ میں بہت سے <mark>غیر</mark> <mark>اس</mark>رائیلی بھی موسوی مذہب میں داخل ہوئے۔مذہب موسوی رکھنے والوں کا نام قوم سے ممتاز کرنے کے لئے یہودی ہو گیا۔اور <mark>اس</mark>لام سے چند صدی پہلے یہودی کے معنے موسوی مذہب رکھنے والے کے ہو گئے۔مگر چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وعدے جو دنیاوی عزّت اور اعلیٰ روحانی مراتب سے متعلق تھے ان کی نسلوں سے خاص تھے۔بنی <mark>اس</mark>رائیل کا لفظ الگ طو رپر قومی امتیاز کو بتانے کے لئے قائم رہا۔قرآن کریم پر <mark>اس</mark>رائیلی تاریخ سے ناواقفیت کا الزام لگانے والوں کا جواب میں نے کسی قدر تفصیل سے یہ امر <mark>اس</mark> لئے بیان کیا ہے تایہ بتائوں کہ قرآن کریم جس پر یہودی مذہب اور <mark>اس</mark>رائیلی تاریخ سے ناواقفیت کا الزام لگایا جاتا ہے <mark>اس</mark> امتیاز کوصحیح طور پر بیان کرتا ہے یعنی جہاں مذہب کا سوال ہوتا ہے یہودی کا لفظ <mark>اس</mark>تعمال کرتا ہے لیکن جہاں ان قومی وعدوں کا ذکر کرتا ہے جو آل ِابراہیم ؑ یا آلِ موسیٰ ؑ یا آلِ دائود ؑ سے خاص تھے یا موسوی انبیاء کے مخاطبین کا ذکر کرتا ہے وہاں یہودی کا لفظ <mark>اس</mark>تعمال نہیں فرماتا بلکہ بنی <mark>اس</mark>رائیل کا لفظ <mark>اس</mark>تعمال فرماتا ہے کیونکہ وہ وعدے موسوی دین اختیار کرنے والوں سے نہ تھے بلکہ ان بنی <mark>اس</mark>رائیل سے تھے جو خدا تعالیٰ کے عہد کو قائم رکھیں خواہ موسوی دین پر ہوں خواہ <mark>اس</mark> کے بعد آنے والے کسی اور الٰہی دین پر ہوں جیسے کہ مسلمان ہونے والے بنی <mark>اس</mark>رائیل مگر لطیفہ یہ ہے کہ <mark>اس</mark> کے برخلاف ان معترضین کا جو قرآن کریم پر <mark>اس</mark>رائیلی تاریخ سے ناواقفیت کا الزام لگاتے ہیں یہ حال ہے کہ ان کی مذہبی کتب تک <mark>اس</mark> بارہ میں غلطی کر جاتی ہیں چنانچہ اناجیل نے بھی <mark>اس</mark> بارہ میں غلطی کی ہے مثلاً مسیح علیہ السلام کی نسبت لکھا ہے ’’یہودیوں کا بادشاہ‘‘ چنانچہ لکھا ہے کہ پیلاطوس نے مسیح علیہ السلام سے پوچھا ’’کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے یسوع نے <mark>اس</mark> سے کہا ہاں تو سچ کہتا ہے‘‘ (متی باب ۲۷ آیت ۱۱۔مرقس باب ۱۵ آیت ۲ ولوقا باب۲۳۔آیت ۳) <mark>اس</mark> بادشاہت کے دعویٰ کی بنیاد زکریاہ نبی کی کتاب پر ہے <mark>اس</mark> میں لکھا ہے ’’اے صیحون کی بیٹی تو نہایت خوشی کر۔اے یروشلم کی بیٹی تو خوب للکار کہ دیکھ تیرا بادشاہ تجھ پ<mark>اس</mark> آتا ہے‘‘ (زکریاہ باب ۹ آیت ۹ )