تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 515
یا فرمانبردار کے ہیں بہرحال حضرت یعقوبؑ کو رؤیا یا کشف میں <mark>اس</mark>رائیل کا نام دیا گیا تھا اور <mark>اس</mark> کی وجہ سے ان کی اولاد بنو <mark>اس</mark>رائیل کہلائی۔بنو <mark>اس</mark>رائیل اور یہودی گو <mark>اس</mark> آیت میں یہودی کا لفظ <mark>اس</mark>تعمال نہیں <mark>ہوا</mark> لیکن قرآن کریم کے دوسرے مقامات میں یہودی یا <mark>اس</mark> کی جمع ھوُد کا لفظ <mark>اس</mark>تعمال <mark>ہوا</mark> ہے اور من<mark>اس</mark>ب ہے کہ ان دونوں لفظوں کا فرق بھی بتا دیا جائے تا معلوم ہو سکے کہ بنو <mark>اس</mark>رائیل کا لفظ کس موقع پر <mark>اس</mark>تعمال ہوتا ہے اور یہودی کا لفظ کس موقع پر <mark>اس</mark>تعمال ہوتا ہے۔لفظ بنو<mark>اس</mark>رائیل اور یہودی کے <mark>اس</mark>تعمال میں فرق بنو <mark>اس</mark>رائیل کا لفظ قرآن کریم میں اڑتیس جگہ <mark>اس</mark>تعمال <mark>ہوا</mark> ہے اور یہودی کا لفظ نو جگہ اور ھُوْدیہود کی جمع کے معنوںمیں تین دفعہ قرآن کریم میں <mark>اس</mark>تعمال <mark>ہوا</mark> ہے۔ان مقامات کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی یا ھُوْد جہاں بھی <mark>اس</mark>تعمال <mark>ہوا</mark> ہے مذہب کی طرف اشارہ کرنے کے لئے <mark>اس</mark>تعمال <mark>ہوا</mark> ہے اور بنو<mark>اس</mark>رائیل کا لفظ جہاں بھی <mark>اس</mark>تعمال <mark>ہوا</mark> ہے قوم کی طرف اشارہ کرنے کے لئے <mark>اس</mark>تعمال <mark>ہوا</mark> ہے۔یعنی جہاں حضرت یعقوب کی نسل کی طرف اشارہ مقصود ہے وہاں تو بنی <mark>اس</mark>رائیل کا لفظ <mark>اس</mark>تعمال کیا ہے اور جہاں ان لوگوں کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے جو اپنے آپ کو موسیٰ کے پیرو کہتے تھے وہاں یہودی یا ھوُد کا لفظ <mark>اس</mark>تعمال کیا گیا ہے۔چنانچہ ھوُد کا لفظ جن تین جگہ پر <mark>اس</mark>تعمال <mark>ہوا</mark> ہے <mark>اس</mark> کے ساتھ نصاریٰ کا لفظ بھی <mark>اس</mark>تعمال <mark>ہوا</mark> ہے۔گویا یہودی مذہب اور نصرانی مذہب کے متبعین کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے <mark>اس</mark>ی طرح یہود کا لفظ جن نو مقامات میں <mark>اس</mark>تعمال کیا گیا ہے ان میں سے بھی آٹھ مقامات میں نصاریٰ کے مقابل پر <mark>اس</mark>تعمال کیا گیا ہے جس سے واضح ہے کہ وہاں <mark>اس</mark>رائیلی قوم مراد نہیں بلکہ موسوی مذہب مراد ہے۔باقی ایک مقام میں نصاریٰ کا لفظ ساتھ <mark>اس</mark>تعمال نہیں۔یعنی المائدہ : ۶۵ میں۔<mark>اس</mark> کی بھی سب آیتیں واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ <mark>اس</mark> جگہ یہودی مذہب کے پیروئوں کا ذکر ہے نہ کہ کسی نسل کے لوگوں کا۔کیونکہ <mark>اس</mark> میں عقائد پر بحث ہے۔<mark>اس</mark> کے بالمقابل بنی <mark>اس</mark>رائیل کا لفظ جہاں بھی قرآن کریم میں <mark>اس</mark>تعمال <mark>ہوا</mark> ہے موسوی قوم پر دلالت کرنے کے لئے <mark>اس</mark>تعمال <mark>ہوا</mark> ہے اور قرآن کریم کے کسی ایک مقام پر بھی <mark>اس</mark>ے نصاریٰ کے مقابل پر <mark>اس</mark>تعمال نہیں کیا گیا۔لفظ بنی <mark>اس</mark>رائیل کا اطلاق ان لوگوں پر جو حضرت یعقوب ؑ کی اولاد سے ہوں۔خواہ وہ یہودی ہوں یا نصرانی یا مسلمان <mark>اس</mark> امتیاز کی وجہ سے جہاں تو بنی <mark>اس</mark>رائیل کا لفظ <mark>اس</mark>تعمال <mark>ہوا</mark> ہے <mark>اس</mark> میں ایسے